گلشن معمار میں دوران ڈکیتی شہری قتل
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
گلشن معمارناردرن بائی پاس پیر بخش سموں گوٹھ میں دوران ڈکیتی ملزمان نے ایک شہری کو قتل کردیا جس کا مقدمہ مقتول کے کزن کی مدعیت میں گلشن معمارتھانےمیں درج کرلیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مقدمے میں 15سے16نامعلوم مسلح ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔ گلشن معمار تھانے کے علاقے ناردرن بائی پاس پیر بخش سموں گوٹھ میں دوران ڈکیتی 58سالہ نور بہادر ولد حیات خان کے قتل کامقدمہ مقتول کے کزن اسامہ کی مدعیت میں گلشن معمارتھانے میں درج کیا گیا۔
مقدمے میں قتل اور ڈکیتی کی دفعات شامل کی گئی ہیں جبکہ مقدمے میں 15 سے 16 نامعلوم مسلح ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔ مدعی مقدمہ اسامہ نے پولیس کو بتایا کہ میں لکڑی کا ٹال چلاتا ہوں، ہمارے گھر والد کی فوتگی پرافسوس کیلئے گاؤں سے رشتہ دار آئے تھے۔
بدھ کی صبح ساڑھے 10 بجے کے قریب ہم سب لوگ،گھر والے اورمہمان رشتہ دار سوئے ہوئے تھے کہ 15 سے16مسلح صورت شناس لکڑی کے ٹال میں داخل ہوئے اورمجھ سمیت4 افراد کو نیند سے جگایا۔ ہم سے جیب میں موجود رقم، موبائل فونز چھینے۔
مسلح ملزمان نے کہا کہ گھر کا گیٹ کھلواؤ اور ڈیرے کا گیٹ کھلواؤ اورڈیرے کی کنڈی بجائی جسے نور بہادرنے ڈیرے کا گیٹ کھولاتو وہ لوگ ڈیرے میں داخل ہو گئےاورایک دم میرے کزن نوربہادرپرفائر کیا۔
گولی نوربہادر کے سرپرلگی جوکہ شدید زخمی ہو کر زمین پرگرگیا اوروہ لوگ ڈیرے کو باہر سے کنڈی لگا کر پیدل فرارہوگئے۔ ہم لوگوں نے 15 پولیس کو کال کی۔ پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی۔ ہم لوگ نور بہادر کوزخمی حالت میں نجی اسپتال لیکر روانہ ہوئے اور بعدازاں نور بہادر کو سول اسپتال لیکر گئے جہاں نور بہادر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دوران علاج دم توڑ گیا۔
اسامہ نے سکیورٹی حکام سے ملزمان کیخلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نور بہادر
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔