ٹرمپ کا یوکرین‘ روس جنگ مقرہ تاریخ پر ختم کرانے میں ناکامی کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251127-01-6
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کیلیے 27 نومبر کی مقررہ تاریخ سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یوکرین کو امریکی حمایت یافتہ امن منصوبے پر رضامند کرنے کی جلدی نہیں کر رہے، میرے لیے آخری تاریخ وہ ہے جب یہ ختم ہو جائے۔ برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ٹرمپ نے ائر فورس ون پر فلوریڈا جاتے ہوئے ’تھینکس گیونگ‘ کی چھٹی منانے کے دوران رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی مذاکرات کار روس اور یوکرین کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت کر رہے ہیں اور ماسکو نے کچھ رعایتیں دینے پر اتفاق کیا ہے، تاہم انہوں نے ان کی تفصیل نہیں بتائی۔ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں 27 نومبر جمعرات کی چھٹی کو وہ دن قرار دیا تھا، جب وہ چاہتے تھے کہ یوکرین معاہدے پر رضامند ہو جائے تاکہ روس کی یوکرین میں جنگ ختم ہو سکے۔لیکن اب وہ اور ان کے معاونین کسی سخت آخری تاریخ سے پیچھے ہٹ گئے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ معاہدہ جلد از جلد ہو جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔