13 سالہ طالبعلم کو ’نازیبا تصاویر اور پیغامات‘ بھیجنے والی اسکول ٹیچر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
امریکی ریاست فلوریڈا میں ایک 22 سالہ پی ای ٹیچر کو مبینہ طور پر ایک 13 سالہ طالبعلم کو نامناسب ٹیکسٹ میسیجز اور تصاویر بھیجنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق یزمار انجیانس راموس-فیگیروآ کو اوسکیولا کاؤنٹی شیرف آفس کے ڈٹیکٹوز نے بدھ کے روز حراست میں لیا۔
رپورٹس کے مطابق انہیں کم عمر کو فحش مواد بھیجنے اور نقصان دہ مواد منتقل کرنے کے الزام میں چارج کیا گیا ہے، جو دونوں سنگین نوعیت کے جرائم ہیں۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق ٹیچر اس وقت سنٹرل پوائنٹ کرسچن اکیڈمی میں پی ای ٹیچر کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھی جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔
متاثرہ طالبعلم کی والدہ نے اکتوبر میں پولیس کو اطلاع دی تھی، جس کے بعد تحقیقات کے دوران پولیس نے ٹیچر کی جانب سے بھیجے گئے میسیجز اور تصاویر حاصل کرلیں۔ شیرف آفس کے مطابق ملزمہ نے سوال و جواب کے دوران اعتراف کیا کہ انہوں نے طالبعلم کو میسیج اور تصویر بھیجی تھی۔
راموس-فیگیروآ کو اوسکیولا کاؤنٹی جیل میں رکھا گیا ہے اور ہر الزام پر 5 ہزار ڈالر کے عوض مجموعی طور پر 10 ہزار ڈالر کی ضمانت مقرر کی گئی ہے۔ اگر جرم ثابت ہو جائے تو وہ ہر الزام پر زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید کی سزا پانے کی مرتکب ہو سکتی ہیں۔
امریکہ میں کم عمر طلبہ کے ساتھ نامناسب رابطے کے الزامات میں اساتذہ کی گرفتاری کے واقعات پہلے بھی سامنے آ چکے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں مختلف ریاستوں میں کئی اساتذہ کو اسی طرح کے جرائم پر گرفتار یا سزا دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔