جنوبی امریکی ملک بولیویا میں کوپا بولیویا کپ میچ کے بعد شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جہاں پولیس کو لڑائی روکنے کے لیے آنسو گیس استعمال کرنا پڑی۔

برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بولیویا کی ٹیموں بلومنگ اور ریئل اورورو کے درمیان میچ 2-2 سے برابر ہوا، جس کے نتیجے میں بلومنگ کی ٹیم مجموعی اسکور کی بنیاد پر کوپا بولیویا کے کوارٹر فائنل میں پہنچ گئی۔

تاہم میچ ختم ہوتے ہی ماحول کشیدہ ہوگیا اور معمولی تکرار ایک بڑے تصادم میں بدل گئی۔

میچ کے بعد کی جھڑپ میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اور عملہ شامل تھا۔

مقامی رپورٹس کے مطابق ریئل اورورو کے کھلاڑی سیباسٹین زیبالوس کو حریف ٹیم نے روکنے کی کوشش کی، مگر وہ خود کو چھڑا کر مزید کھلاڑیوں کو دھکے دینے لگے۔

اسی اثناء میں ان کے ساتھی جولیو ویلا نے بھی مشتعل ہو کر مکّے برسائے، جس سے صورتحال مزید بگڑ گئی۔

اطلاعات کے مطابق ریئل اورورو کے کوچ مارسيلو روبلیدو بھی تنازعے میں ملوث ہوئے اور مبینہ طور پر ایک قومی ٹیم کے اسٹاف رکن سے تکرار کے دوران زمین پر گر پڑے۔

‼️ Caso total en Bolivia: 17 ???????????????????????????????????????? (!) e intervención de la policía

???? El encuentro entre Real Oruro y Blooming acabó en el caos total en lo que se define desde Bolivia como una "vergüenza nacional" pic.

twitter.com/txapvtgwjJ

— Eurosport.es (@Eurosport_ES) November 27, 2025

بعض رپورٹس میں ان کے کندھے اور سر پر چوٹ لگنے کا دعویٰ دعویٰ کیا گیا ہے۔

صورتحال قابو میں کرنے کے لیے تقریباً 20 پولیس اہلکاروں نے مداخلت کی اور بڑھتی ہوئی ہنگامہ آرائی کو روکنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔

بلومنگ کے کوچ موریسیو سوریہ نے اپنے کھلاڑیوں کو فوراً ڈریسنگ روم میں منتقل کر کے حالات کو پرسکون کرنے کی کوشش کی۔

تاہم میچ آفیشل کی رپورٹ کے مطابق جھگڑا کرنے پر بلومنگ کے 7 اور اورورو کے 4 کھلاڑیوں، دونوں ٹیموں کے کوچز اور ان کے اسسٹنٹس سمیت 17 افراد کو ریڈ کارڈز دکھائے گئے۔

???????? ???????????? ???????????????????? ???????? ???????????? ???????????????? ???????? ???????????????????????????? ???????? pic.twitter.com/Atb4sCDHjc

— 433 (@433) November 27, 2025

رپورٹس کے مطابق کم از کم 6 کھلاڑی کوپا بولیویا کپ سے مکمل طور پر باہر ہوگئے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اورورو کے کے مطابق

پڑھیں:

مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری

فوٹو: فائل

کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی نے مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔  

اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔ 

 اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

 اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ 

صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی