جنوبی امریکی ملک بولیویا میں کوپا بولیویا کپ کے ایک میچ کے بعد غیر معمولی ہنگامہ دیکھنے کو ملا، جس میں پولیس کو حالات قابو میں لانے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق یہ مقابلہ بلومنگ اور ریئل اورورو کے درمیان ہوا، جو 2-2 سے برابر رہا۔ اس نتیجے کے باعث بلومنگ ٹیم مجموعی اسکور کی بنیاد پر کوارٹر فائنل میں پہنچ گئی۔
میچ کے اختتام پر معمولی تکرار ایک بڑے تصادم میں بدل گئی، جس میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اور عملہ شامل تھے۔ مقامی رپورٹس کے مطابق ریئل اورورو کے کھلاڑی سیباسٹین زیبالوس کو حریف ٹیم نے روکنے کی کوشش کی، لیکن وہ خود کو چھڑا کر دیگر کھلاڑیوں کو دھکے دینے لگے۔ ان کے ساتھی جولیو ویلا نے بھی مشتعل ہو کر مکّے برسائے، جس سے صورتحال مزید بگڑ گئی۔
اطلاعات کے مطابق ریئل اورورو کے کوچ مارسيلو روبلیدو بھی تنازعے میں ملوث ہوئے اور مبینہ طور پر ایک قومی ٹیم کے اسٹاف رکن کے ساتھ تکرار کے دوران زمین پر گر پڑے، جنہیں کندھے اور سر پر چوٹیں لگیں۔
ہنگامہ قابو میں لانے کے لیے تقریباً 20 پولیس اہلکار میدان میں آئے اور آنسو گیس استعمال کی۔ بلومنگ کے کوچ موریسیو سوریہ نے کھلاڑیوں کو فوراً ڈریسنگ روم میں منتقل کر کے حالات کو پرسکون کرنے کی کوشش کی۔
میچ آفیشل کی رپورٹ کے مطابق جھگڑے میں ملوث بلومنگ کے 7 اور اورورو کے 4 کھلاڑیوں سمیت دونوں ٹیموں کے کوچز اور اسسٹنٹس سمیت کل 17 افراد کو ریڈ کارڈز دکھائے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کم از کم 6 کھلاڑی کوپا بولیویا کپ سے مکمل طور پر باہر ہوگئے ہیں۔
یہ واقعہ فٹبال کی تاریخ میں نایاب سمجھا جا رہا ہے، جہاں ایک میچ میں اتنے زیادہ کھلاڑیوں کو ریڈ کارڈز ملے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کھلاڑیوں کو اورورو کے کے مطابق

پڑھیں:

مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری

فوٹو: فائل

کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی نے مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔  

اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔ 

 اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

 اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ 

صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی