آسان قرضہ سکیم: درخواستیں ہزاروں، مگر منظوری کی رفتار سست
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
علی رامے: حکومت کی آسان قرضہ سکیم میں درخواستوں کی تعداد میں تو اضافہ دیکھا گیا ہے، لیکن منظوری کی رفتار اب بھی کم رہی ہے۔
پہلے سال ٹی ون میں 23 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے صرف 1409 درخواستیں منظور ہو سکیں۔
ذرائع کے مطابق سب سے زیادہ درخواستیں لوجسٹکس، ٹریڈنگ اور سروسز سیکٹر سے موصول ہوئیں، جبکہ ٹیکسٹائل اور فوڈ پروسیسنگ کے شعبوں میں منظوری کی شرح انتہائی کم رہی۔ ٹی ون میں منظور شدہ قرضوں کی مجموعی مالیت 4.
پاکستان نے افغانستان سے تاجکستان سرحد پر چینی شہریوں پرحملہ بزدلانہ فعل قرار دیدیا
ٹی ٹو کے سال میں 9 ہزار درخواستوں میں سے 506 درخواستیں منظور ہوئیں، اور منظوری شدہ رقم کا حجم 9.4 ارب روپے رہا۔ اس سال ٹریڈنگ سیکٹر نے سب سے زیادہ قرض حاصل کیا۔
حکام کے مطابق چھوٹے کاروباروں کے قرض کی منظوری میں مختلف رکاوٹیں پیش آئیں، تاہم کہا گیا کہ قرض کی منظوری میں کاروبار کے معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ جن درخواستوں میں مکمل بزنس پلان موجود نہیں تھا یا شرائط پوری نہیں ہوئیں، انہیں مسترد کر دیا گیا۔
شہر کی فضا بدستور آلودہ،سول سیکرٹریٹ میں آلودگی کی شرح خطرناک حد سے تجاوز کر گئی
حکام نے بتایا کہ سکیم میں بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں اور حکومت قواعد و ضوابط میں ضروری نرمی بھی کرے گی تاکہ چھوٹے کاروباروں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔