پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 735ارب روپے اضافے سے 23سو ارب ہونے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 735ارب روپے اضافے سے 23سو ارب ہونے کا خدشہ WhatsAppFacebookTwitter 0 27 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)رواں مالی سال کے دوران پاور سیکٹر گردشی قرضہ 735 ارب روپے مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔ذرائع کے مطابق گردشی قرضہ 1615 ارب سے بڑھ کر دوبارہ ساڑھے 23 سو ارب روپے تک پہنچنے کا خدشہ ہے، ریبیسنگ، تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات کم اور ریکوریز بہتر کرنے سے 212 ارب کم بڑھے گا۔
بتایا گیا ہے کہ 522 ارب باقی گردشی قرضہ ختم کرنے کیلئے 120 ارب روپے کی پرنسپل ریپیمنٹس ہوں گی، 400 ارب روپے حکومتی پاور پلانٹس اور آئی پی پیز کو دے کر سٹاک زیرو رکھا جائے گا۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ آئی ایم ایف شرائط کے مطابق پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ زیرو ان فلو رکھنا ہو گا، سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان کے مطابق سالانہ ریبیسنگ کی مد میں 55 ارب روپے وصول ہوں گے۔
بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات کم کرنے سے 18 ارب روپے اکٹھے ہوں گے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ریکوریز بہتر کرنے کے بعد 121 ارب روپے کی ریکوری ہوگی، ان تمام اقدامات کے بعد رواں مالی سال گردشی قرضہ کو زیرو ان فلو پر رکھا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبردنیا تیزی سے تبدیل، مسلح افواج کو مستقبل کی جنگوں کیلئے تیار رہنا ہوگا، جنرل ساحر شمشاد دنیا تیزی سے تبدیل، مسلح افواج کو مستقبل کی جنگوں کیلئے تیار رہنا ہوگا، جنرل ساحر شمشاد وائٹ ہاؤس میں نیشنل گارڈز پر فائرنگ کرنے والا افغان شہری کون ہے؟ تازہ انکشافات سامنے آگئے پاکستان اور خلیج تعاون کونسل میں جلد آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط ہوں گے: وزیراعظم اسلام آباد میں ڈانس پارٹیوں اور مساج سنٹروں کے نام پر فحاشی،21 خواتین،19 مرد گرفتار ہم نے ڈکٹیٹرشپ کے دوران آنکھ کھولی، اب تو ججز بھی نہیں رہے، جسٹس محسن اختر کیانی کے اہم ریمارکس شہباز شریف بھی غزہ کے روشن مستقبل کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں، امریکی صدرٹرمپCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاور سیکٹر ارب روپے کا خدشہ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔