وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا 7 دسمبر کو پشاور میں جلسے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی نے 7 دسمبر کو پشاور میں جلسہ کرنے جبکہ پشاور کی ترقی کے لیے 100 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر گرینڈ میٹنگ بلانے کا اعلان کردیا۔
روزنامہ جنگ کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی کی زیر صدارت پشاور کے پارلیمنٹرینز کا اجلاس ہوا جس میں موجودہ و سابق اراکین اسمبلی اور پشاور کی سینئر قیادت نے شرکت کی۔
اجلاس میں 7 دسمبر کو پشاور میں جلسہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس موقع پر سہیل آفریدی نے کہا کہ پشاور کی عظمتِ رفتہ کی بحالی اور ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لائیں گے، پشاور صوبے کا دارالحکومت اور ہمارا چہرہ ہے۔
گروپ انشورنس عدم ادائیگی کیس: پنشن بند ہونے کے عندیہ پر عدالت برہم
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ پشاور کے میگا پروجیکٹس اور درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔