data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور: مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعظم نوازشریف نے ضمنی الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے والے امیدواروں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ نفرت، جھوٹ، گالی گلوچ، منافقت، بدتمیزی، بدتہذہبی، دنگا فساد، فتنے کو بری طرح شکست ہوئی۔ہم نے عوامی خدمت کا ریکارڈ قائم کیا، پاکستان کو اخلاقی، معاشرتی دیوالیہ پن سے بچایا ہے،الیکشن کا بائیکاٹ کرنے والے خود الیکشن میں حصہ لے کر ہار گئے۔ بانی پی ٹی آئی اکیلا مجرم نہیں، اس کو لانے والے بھی برابر کے شریک ہیں۔

صدرمسلم لیگ ن نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دور حکومت میں ایک بھی ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا گیا، ملک میں صرف تباہی آئی، بدتہذیبی کا کلچر عام کیا گیا، خارجہ امور کا دیوالیہ نکالا گیا، میرٹ کی دھجیاں اڑائی گئیں، ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر پہنچ گیا تھا۔ترقی کی رفتار جاری رہتی تو آج دنیا میں ہمارا ایک مقام ہوتا۔

نوازشریف کا کہناتھا کہ 2017میں ہمارا گروتھ ریٹ بڑھ رہا تھا،3فیصد پرمہنگائی تھی، یہ 39فیصد پر مہنگائی کو لے کرگئے، پھر 4 فیصد پر آ گئی ہے، انہوں نے جو حالات پیدا کیے اس کا خمیازہ ہر پاکستانی بھگت رہا ہے، 1999میں پرویز مشرف نے مارشل لا لگایا، 1999میں سعودی ریال کا ریٹ 11روپے تھا، ہمارے جانے کے بعد ملک میں بہت تباہی پھیری گئی، ملک کا ستیاناس کر کے رکھ دیا گیا، بدتمیزی،بدتہذہبی،دنگافساد،فتنہ فسادکے ذریعے ملک کا دیوالیہ نکال دیا۔

نوازشریف کا کہناتھا کہ وہ ترقی کی رفتار رہتی تو آج پتا نہیں کہاں پہنچ چکے ہوتے، آئی ایم ایف اور زرمبادلہ کےذخائر کی کوئی فکر نہ ہوتی، زرمبادلہ ذخائر،آئی ایم ایف کا فکر ہی ہمیں لے کر بیٹھ گیا ہے، کئی فیصلے ہم خود نہیں کر سکتے،غیروں کے ہاتھ میں ہیں، انہوں نے ہی ملک کے فیصلے غیروں کے ہاتھ میں دیئے، 2018سے 2022 تک جو ہوتا رہا وہ ساری ذمہ داری ان کے سر ہے۔

سابق وزیراعظم کا کہناتھا کہ لوگوں نے آپ کو ووٹ کارکردگی کی بنیاد پر دیا، سب نے ملک کر شہبازشریف اور مریم نواز کا ہاتھ بٹانا ہے، ڈیڑھ سال میں عوامی خدمت کا ریکارڈ قائم کیا گیا ہے، اکانومی کو گڑھے سے پھر باہر نکال دیاگیا، پاکستان کو ڈیفالٹ اور بینک کرپسی سے بچایا، پاکستان اقتصادی، اخلاقی،معاشرتی،معاشی دیوالیہ ہوچکا تھا، پاکستان میں انسانیت کا بھی دیوالیہ پن کردیا گیاتھا، بڑوں کا ادب اور چھوٹوں کا پیار ختم کر دیا گیا تھا، کرکٹ کھیلنے کیلئے آئے تھے،وہی کھیل 5سال تک کھیلتے رہے، ملک اور قوم کا دیوالیہ نکال دیا گیا،خارجہ امور کا دیوالیہ نکال دیا گیا۔

ان کا کہناتھا بانی پی ٹی آئی اکیلا نہیں،اس کو لانے والے اس سے بڑے مجرم تھے، بانی پی ٹی آئی کو لانے والوں سے بھی پورا پورا انصاف لینا چاہیے، ان کا بیانیہ دوسروں کو چور اور ڈاکو کہنا تھا، خود یہ چوری اور ڈاکوں میں سب سے آگے تھے، ان کی سب داستانیں سامنےآرہی ہیں، فتنہ فساد،الزام تراشی، ماردو کے بیانیہ سے قومیں ترقی کرتی ہیں؟۔

صدر مسلم لیگ کا کہناتھا کہ انہوں نے کہا الیکشن کا بائیکاٹ کریں گے، یہ کیسا بائیکاٹ ہے جس میں عمرایوب کی بیوی خود الیکشن لڑ رہی تھی؟، کیا بائیکاٹ ایسا ہوتا ہے؟ ان کے امیدوار اپنے لیڈرکی تصویریں اٹھا کر کھڑے تھے، ضمنی الیکشن میں جیتنے والوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکبادپیش کرتا ہوں، ہری پور میں ن لیگ کے امیدوار 44 ہزار کی لیڈ سے جیتے ہیں، ہر روز نیا چیف سیکرٹری آ رہا تھا،تیسرے دن نیا آئی جی آرہا تھا، ان کے دور میں کوئی مستقل مزاجی نہیں تھی،ڈھنگ کے کام نہیں ہورہے، ان کے دور میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوئے، ترقی یافتہ کام ہمیشہ مسلم لیگ ن کے دورمیں ہی ہوئےہیں، ان کی حکومت جہاں بھی تھی وہاں برے حالات تھے، شہبازشریف اور مریم نواز مجھ سے بھی آگےنکل گئے ہیں۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی کا کہناتھا کہ نکال دیا کو لانے دیا گیا

پڑھیں:

کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔

عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔

ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔

دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔

تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف