پاور سیکٹر کا گردشی قرض 735 ارب اضافے سے 23 سو ارب روپے ہونے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251128-08-26
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) رواں مالی سال کے دوران پاور سیکٹر گردشی قرضہ 735 ارب روپے مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔ذرائع کے مطابق گردشی قرضہ 1615 ارب سے بڑھ کر دوبارہ ساڑھے 23 سو ارب روپے تک پہنچنے کا خدشہ ہے، ریبیسنگ، تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات کم اور ریکوریز بہتر کرنے سے 212 ارب کم بڑھے گا۔ بتایا گیا ہے کہ 522 ارب باقی گردشی قرضہ ختم کرنے کے لیے120 ارب روپے کی پرنسپل ری پیمنٹس ہوں گی، 400 ارب روپے حکومتی پاور پلانٹس اور آئی پی پیز کو دے کر سٹاک زیرو رکھا جائے گا۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ آئی ایم ایف شرائط کے مطابق پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ زیرو ان فلو رکھنا ہو گا، سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان کے مطابق سالانہ ریبیسنگ کی مد میں 55 ارب روپے وصول ہوں گے۔بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات کم کرنے سے 18 ارب روپے اکٹھے ہوں گے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ریکوریز بہتر کرنے کے بعد 121 ارب روپے کی ریکوری ہوگی، ان تمام اقدامات کے بعد رواں مالی سال گردشی قرضہ کو زیرو ان فلو پر رکھا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ارب روپے
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔