افکار سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جماعت اسلامی کا لائحہ عمل
جماعت اسلامی کا لائحہ عمل [تطہیر و تعمیر افکار، صالح افراد کی تلاش، تنظیم اور تربیت، اصلاحِ معاشرہ، اصلاحِ نظام حکومت] جس اسکیم پر مبنی ہے، اس کی کامیابی کا سارا انحصار ہی اس کے توازن پر ہے۔ اس کا ہر جز دوسرے اجزا کا مددگار ہے، اس سے تقویت پاتا ہے اور اس کو تقویت بخشتا ہے۔ آپ کسی جز کو ساقط یا معطل کریں گے تو ساری اسکیم خراب ہو جائے گی۔ اور اس کے اجزا کے درمیان توازن برقرار نہ رکھیں گے تب بھی یہ اسکیم خراب ہو کر رہے گی:
کامیابی کی صورت یہ ہے کہ ایک طرف دعوت وتبلیغ جاری رکھیے تاکہ ملک کی آبادی زیادہ سے زیادہ آپ کی ہم خیال ہوتی چلی جائے۔
دوسری طرف ہم خیال بننے والوں کو منظم اور تیار کرتے جائیے تاکہ آپ کی طاقت اسی نسبت سے بڑھتی جائے جس نسبت سے آپ کی دعوت وسیع ہو۔
تیسری طرف معاشرے کی اصلاح وتعمیر کے لیے اپنی کوششوں کا دائرہ اتنا ہی بڑھاتے چلے جائیے جتنی آپ کی طاقت بڑھے تا کہ معاشرہ اس نظامِ صالح کو لانے اور سہارنے کے لیے زیادہ سے زیادہ تیار ہو جائے جسے آپ لانا چاہتے ہیں۔
اور ان تینوں کاموں کے ساتھ ساتھ ملک کے نظام میں عملاً تغیر لانے کے آئینی ذرائع سے بھی پورا پورا کام لینے کی کوشش کیجیے تاکہ ان تغیرات کو لانے اور سہارنے کے لیے آپ نے معاشرے کو جس حد تک تیار کیا ہو اس کے مطابق واقعی تغیر رُونما ہو سکے۔
ان چاروں کاموں کی مساوی اہمیت آپ کی نگاہ میں ہونی چاہیے۔ ان میں سے کسی کو کسی پر ترجیح دینے کا غلط خیال آپ کے ذہن میں پیدا نہ ہونا چاہیے۔
ان میں سے کسی کے بارے میں غلو کرنے سے آپ کو پرہیز کرنا چاہیے۔ آپ کے اندر یہ حکمت موجود ہونی چاہیے کہ اپنی قوت عمل کو زیادہ سے زیادہ صحیح تناسب کے ساتھ ان چاروں کاموں پر تقسیم کریں۔ اور آپ کو وقتاً فوقتاً یہ جائزہ لیتے رہنا چاہیے کہ ہم کہیں ایک کام کی طرف اس قدر زیادہ تو نہیں جھک پڑے ہیں کہ دوسرا کام رک گیا ہو، یا کمزور پڑ گیا ہو۔ اسی حکمت اور متوازن فکر اور متناسب عمل سے آپ اس نصب العین تک پہنچ سکتے ہیں جسے آپ نے اپنا مقصدحیات بنایا ہے۔
٭—٭—٭
ایک بڑی غلط فہمی
اس توازن کی بحث میں غلط فہمی کی ایک اور وجہ بھی ہے جسے نگاہ میں رکھنا ضروری ہے۔ عموماً جب کوئی صاحب یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جماعت کے کام میں لائحۂ عمل کے چاروں اجزا کا توازن قائم نہیں رہا ہے تو ان کی گفتگو سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک اس کے ہر جز پر عمل صرف وہی ہے جو اس خاص جز کے نام سے کیا جائے۔ مثلاً دعوت کا کام وہ صرف اس کو شمار کریں گے جس پر ’دعوت‘ کا عنوان لگا ہوا ہو، اور اصلاحِ معاشرہ کا کام ان کے خیال میں صرف وہ ہوگا جو اس مخصوص نام کے ساتھ کیا گیا ہو۔ رہے وہ کام جن پر ’سیاست‘ کا عنوان چسپاں ہو تو وہ اسے ’سیاسی کام‘ کے خانے میں ڈال دیں گے اور یہ تسلیم نہ کریں گے کہ اس عنوان کے تحت دعوت، توسیع نظام اور اصلاحِ معاشرہ کا بھی کوئی کام ہوا ہے۔
اس طرح بعض لوگوں نے مختلف عنوانات کے خانوں میں جماعت کے کام کو تقسیم کر رکھا ہے اور زیادہ تر یہی چیز ان کے اس دعوے کی بنیاد ہے کہ جماعت کا سیاسی کام اس کے دوسرے کاموں سے بہت بڑھ گیا ہے۔ حالاںکہ ہم جو اپنے لائحہ عمل میں چار عنوانوں پر کام کو تقسیم کر کے بیان کرتے ہیں تو وہ صرف یہ سمجھانے کے لیے ہے کہ زندگی کے کن کن گوشوں میں ہمیں کن مقاصد کے لیے سعی کرنی ہے۔ اس کا یہ مطلب کبھی نہیں ہوتا، اور نہیں ہو سکتا کہ عملاً بھی یہ الگ کام ہوں گے۔ واقعے کے اعتبار سے تو ان میں سے ہر کام ایسا ہے جس میں آپ سے آپ بقیہ سارے کام بھی شامل ہوتے ہیں۔ جب آپ دعوت کا کام کریں گے تو وہ مذہبی واعظوں کے طرز پر صرف دعوت ہی نہ ہوگی بلکہ توسیع نظام اور اصلاحِ معاشرہ کا مقصد بھی اس کے ساتھ خود بخود پورا ہوگا اور یہی آپ کا سیاسی کام بھی ہوگا۔ دوسری طرف جب آپ سیاسی کام کرنے اٹھیں گے تو یہ دوسری سیاسی پارٹیوں کے طرز پر محض سیاسی کام ہی نہ ہوگا، بلکہ اس کا افتتاح ہی دعوت دین سے کیا جائے گا، اور اس کے اندر لازماً توسیع نظام اور اصلاحِ معاشرہ کے عناصر بھی شامل ہوں گے۔ (تحریک اسلامی کا آیندہ لائحہ عمل، ص 130-133)
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اور اصلاح لائحہ عمل سیاسی کام کریں گے کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔