Jasarat News:
2026-06-02@23:19:50 GMT

دعا: سنتِ انبیا علیہم السلام

اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دعا انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہی تھی کہ سیدنا عمرؓ کی تقدیر بدل گئی اور اسلام کے صفحۂ اول میں داخل ہوگئے۔ ”اے اللہ عمرَین (عمر بن خطاب یا عمر بن ہشام) میں سے کسے ایک ذریعے سے اسلام کو تقویت عطا کر“۔ بدر کے سنگلاخ میدان میں آپؐ کی دعا نے جبرئیلِ امین کو لا کھڑا کیا اور شیطان کو شکست کھانی پڑی۔ اُحد میں فتح کے بعد فاتحِ لشکر کو مدینہ منورہ کے دروازے پر دستک دینے کی ہمت نہ ہوئی۔ حالانکہ ظاہری اعتبار سے اب کوئی رکاوٹ نہ تھی اور کوئی رکاوٹ تھی تو وہ نالۂ نیم شب کی اثر انگیزی تھی کہ وہ بدقسمت لشکر مدینہ کے بجائے مکہ روانہ کردیا گیا۔ جنگِ خندق میں دعاؤں نے افواج عرب کو ہواؤں اور ان دیکھے لشکروں کے ذریعے پسپا کردیا۔ جنگ یرموک میں بھی وہی ہواؤں کا ریلا مدد کو موجود تھا۔ اسی طرح قادسیہ کے مقام پر آپؐ کے صحابہٴ کرامؓ کی پشت پر ایرانیوں کے خلاف وہ تیز وتند ہواؤں کا لشکر موجود تھا۔
یقیناً دعا مومن کا ہتھیار ہے، ربِ کریم کے نادیدہ خزانوں کی چابی ہے، دعا مومن کا بہت اہم خزانہ ہے، دعا عبادت کا مغز ہے (الدعاء مخ العبادہ) لیکن اس کی حقیقت عقلیت پسندوں کی سمجھ میں نہیں آتی، جبکہ یہ تو جبلِ ہمالیہ سے کہیں بڑھ کر ٹھوس اور باوزن ہے اور بدیہی اعتبار سے ثابت بھی ہے۔ اللہ تعالی کے نادیدہ خزانوں کا عظیم وعمیق ربط دعا سے ہے۔ جس کی قبولیت کے مختلف انداز ہیں، کبھی بعینہ وہی مل جائے، یا اس کا بدل۔۔۔ بلکہ نعم البدل مل جائے، جو ں کاتوں قبول نہ ہو بلکہ اللہ تعالی حکیم ہے اور اس کا کوئی عمل حکمت سے خالی نہیں اور وہ انسان کے انجام سے بخوبی واقف ہے۔ اس کے ذریعے سے کوئی مصیبت دور کردے، یا یہ کہ اسے مومن کے لیے بطور توشۂ آخرت محفوظ کردیا جائے، لیکن دعا کی قبولیت کے ان گونا گوں انداز کو عقلیت پسند ذہن تمسخر کا نشانہ بنانے سے نہیں چوکتے۔ لیکن انھیں یہ پتا ہونا چاہیے کہ پُرخلوص کوشش اور دعا سے وہ نتائج نکلتے ہیں جن کی عقلی لحاظ سے بالکل امید نہیں ہوتی۔

دعا کی قبولیت کے آداب میں یہ بات شامل ہے کہ انسان اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کرے خوب خوب بندگی کرے، تقوی اور پرہیزگاری کی راہ اور روش اپنائے یقیناً دعا میں تقوی کَالْمِلْحِ فِی الطَّعَامِ کا درجہ رکھتا ہے، جس کے بارے میں کسی نے لکھا ہے کہ:
یہ مخصوص اوقات میں محدود مقامات پر ایک خاص قسم کی پر تکلف کیفیت پیدا کرنے کا نام نہیں ہے؛ بلکہ یہ خشیتِ الٰہی سے عبارت ہے اگر تقوی اور پرہیزگاری کی روح نہ رہے تو انسان کی زندگی میں امن وسکون عنقا ہو جاتا ہے اور پھر یہ صراطِ مستقیم سے منحرف ہوکر اپنی ناکامی اور نامرادی کا نوشتۂ تقدیر خود اپنے ہاتھوں تیار کرلیتا ہے، تقویٰ تو یہ ہے کہ کبر ونخوت اور غرور وسرکشی سے عاری اور تواضع وانکساری کے جذبات سے سرشار ہو، جس کے لیے خدا کی عطا کردہ نوازش کا احساس اور خالقِ دوجہاں کے منبعِ علم ہونے کا ایمان مہمیز کرتا ہے۔
اسی طرح جو بھی صلاحیت، لیاقت اور توانائیاں ہوں وہ راہِ خدا میں کھپادے، پھر اللہ تعالی سے نصرت واعانت اور سرخروئی وفتح وکامرانی کی دعا کرے، اللہ تعالیٰ کو تو پرخلوص جدوجہد اور صرف اسی پر توکل کرنا اور اسی سے مانگنا محبوب ہے، اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی لوگوں کو فاتح اور غالب کرنے وعدہ کیا ہے خواہ تعداد میں تھوڑے ہوں اور وسائل کی قلت ہو بقول علامہ اقبال
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کردے
دہر میں اسمِ محمد سے اجالا کردے

مولانا محمد ابرار کلیم گلزار

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اللہ تعالی

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی