اسلام آباد ریجن کے بلے باز شامل حسین کی قائد اعظم ٹرافی میں شاندار کارکردگی
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
اسلام آباد ریجن کے بلے باز شامل حسین کی قائد اعظم ٹرافی 2025 میں شاندار کارکردگی نے انہیں بین الاقوامی فرسٹ کلاس رینکنگ میں دوسرے نمبر پر پہنچا دیا۔ وہ بھارت کے بڑااسکور بنانے کے لیے مشہور ٹیسٹ کھلاڑی کے کے نائر سے صرف 14 رنز پیچھے ہیں۔
شامل حسین نے 2025 میں تمام بین الاقوامی فرسٹ کلاس کھلاڑیوں میں بہترین 75.
ان کے مقابلے میں نائر کا اسٹرائیک ریٹ 55 ہے جس میں 189 چوکے اور 13 چھکے شامل ہیں۔شامل حسین 50 یا اس سے زیادہ کی 12 اننگز کے ساتھ بھی سرفہرست ہیں جن میں 7 نصف سنچریاں اور 5 سنچریاں شامل ہیں جن میں سے ایک ڈبل سنچری ہے۔
گزشتہ سیزن میں پریذیڈنٹ کپ کے دوران شامل حسین کے 73 کے اسٹرائیک ریٹ سے اسکور کیے گئے 727 رنز کی بدولت ان کی ٹیم پی ٹی وی فتح یاب رہی۔شامل حسین رواں سال قائداعظم ٹرافی میں زیادہ سے زیادہ باوٴنڈریز لگانے میں سرفہرست ہیں، جن میں 120 چوکے اور 19 چھکے شامل ہیں۔
شامل حسین نے انگلینڈ کے دورے میں پاکستان اے کے لیے سب سے زیادہ رنز بنائے اور 2023 میں آسٹریلیا ٹور میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی بھی تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سے زیادہ
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔