ایبٹ آباد کے پہاڑی علاقے میں تھانہ بگنوتر کی حدود میں واقع بیرن گلی کے قریب ایک کیری ڈبہ اچانک بے قابو ہوکر انتہائی گہری کھائی میں جاگرا، جس کے نتیجے میں 5 افراد موقع پر ہی زندگی کی بازی ہار گئے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق گاڑی بریک فیل ہونے کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوئی۔

مقامی ذرائع کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب یاسر خلیل نامی ڈرائیور اپنی گاڑی کے ساتھ بیرن گلی سے ایبٹ آباد کی جانب آ رہا تھا کہ کھڑی مقام پر اچانک گاڑی کا توازن بگڑ گیا۔ شدید ڈھلوان کے باعث کیری ڈبہ تقریباً ایک ہزار فٹ تک لڑھکتا ہوا نیچے گہری کھائی میں جا گرا۔

گرنے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی اور اس میں سوار 6 افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں 2 انٹرمیڈیٹ کی طالبات بھی شامل تھیں جو اپنے امتحان دینے ایبٹ آباد جا رہی تھیں۔

مرنے والوں میں باپ بیٹا ذوالفقار اور زبیر، 2سگی بہنیں دختران شبیر احمد، ڈرائیور یاسر خلیل اور ایک اور شخص اختر شامل ہیں۔ مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت کئی گھنٹوں تک ریسکیو آپریشن کرکے لاشوں کو نکالا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ایبٹ آباد

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق