Islam Times:
2026-06-02@22:59:09 GMT

دشمن کی نہ جنگ نہ امن کی خطرناک سازش

اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT

دشمن کی نہ جنگ نہ امن کی خطرناک سازش

اسلام ٹائمز: شریعتمداری نے اپنے تجزیہ میں کہا ہے کہ ہمیں ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیئے۔ امریکہ اور صیہونی حکومت ایران کو "نہ جنگ اور نہ امن" کی حالت میں رکھنے کیلئے ایک چال چل رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا: مثال کے طور پر وہ تل ابیب کے ہوائی اڈے پر امریکی اور یورپی ہتھیاروں کی آمد کو مسلسل دکھاتے ہیں۔ یہ ہتھیار پہلے بھی آتے تھے، لیکن انکی نمائش نہیں کی جاتی تھی۔ اب وہ ایسا دکھاوا کرتے ہیں، جیسے وہ تیاری کر رہے ہوں۔ ہم اس طرف سے تیار ہیں، لیکن ان ڈسپلے کی قیمت ان کیلئے ہے۔ کیہان اخبار کے چیف ایڈیٹر نے تاکید کی ہے کہ ہمیں ہمیشہ تیار رہنا چاہیئے، لیکن صیہونی حکومت اور خود امریکہ کو بہت سخت ضربیں لگیں۔ کیا اس سے پہلے کسی نے امریکہ پر حملہ کرنے کی جرات کی، ہم نے عین الاسد اور العدید کو نشانہ بنایا۔ تحریر: مھدی طلوع وند

معروف ایرانی اخبار کیہان کے چیف ایڈیٹر حسین شریعتمداری نے گذشتہ رات (جمعرات 26 دسمبر) سما نیوز نیٹ ورک کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں ایران میں امریکی حملے کی ناکامی اور امریکی حملے کے بارے میں رہبر انقلاب اسلامی کے الفاظ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے پر سرسری نظر ڈالنے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ 90 ملین سے زیادہ ایرانی واضح طور پر جانتے ہیں کہ اسرائیل کو شکست ہوئی، لیکن اندر اور باہر کچھ آوازیں کہتی ہیں کہ ایران ناکام ہوگیا ہے۔ ان لوگوں کے پاس کوئی دلیل یا دستاویزی ثبوت نہیں ہے۔ جناب شریعت مداری نے صیہونی حکومت کے رویئے کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ یہ حکومت کسی بھی بین الاقوامی ریڈ لائن پر عمل نہیں کرتی اور جنگ کے دوران جب بھی جنگ بندی قائم ہوئی تو اس نے بغیر کسی وضاحت کے فوراً اس کی خلاف ورزی کی۔

تاہم مسلط کردہ 12 روزہ جنگ میں یہ حکومت انتہائی مشکل حالات کی وجہ سے جنگ بندی کو توڑنے میں ناکام رہی۔ یہ جنگ ہمارے لیے مواقع کا ایک دھماکہ تھا اور ایک معتبر میڈیا رپورٹ میں واضح طور پر اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو ایک بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ شریعتمداری نے تاکید کی ہے کہ صیہونی تجزیہ نگاروں اور معتبر اخبارات نے لکھا ہے کہ ان کی دفاعی تہیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ہیں اور حالات مزید خراب ہوگئے ہیں۔ یہاں تک کہ بی بی سی کے رپورٹر نے بھی اسرائیلی عوام کی مایوسی اور نامرادی کو ان کے چہروں پر دیکھا اور کہا کہ کسی کو بھی توقع نہیں تھی کہ ایران کے حملے اتنے وسیع ہوں گے۔

اس افواہ کے بارے میں کہ ایران نے امریکہ کو پیغام دیا ہے، شریعتمداری نے کہا ہے  یہ افواہ سراسر جھوٹ ہے۔ چار اہم حکومتی مراکز کی سرکاری تردید کے باوجود کچھ میڈیا اداروں اور حتیٰ کہ حکومت کے اندر حساس عہدوں پر فائز افراد نے یہ جھوٹ پھیلایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا یہ کہانی صدر مسعود پزشکیان کے بن سلمان کو لکھے گئے خط سے شروع ہوئی، جسے رائٹرز نے شائع کیا اور وزارت خارجہ، حج آرگنائزیشن کے سربراہ، حکومتی ترجمان اور سعودی عرب میں ایرانی سفیر کی طرف سے اس کی تردید کی گئی، لیکن پھر بھی کچھ لوگوں نے اس جھوٹ کو پھیلایا۔ کیہان اخبار کے چیف ایڈیٹر نے تاکید کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ ہمارا مسئلہ رابطے یا اس طرح کے پیغامات بھیجنے کا نہیں ہے اور نہ ہی کسی حکومت نے اس کی کوشش کی ہے اور یورپ اور دوسرے ممالک بھی ثالثی نہیں کرسکتے ہیں، کیونکہ اسلامی جمہوریہ اس مسئلہ کو قبول نہیں کرتا۔

شریعتمداری نے اپنے تجزیہ میں کہا ہے کہ ہمیں ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیئے۔ امریکہ اور صیہونی حکومت ایران کو "نہ جنگ اور نہ امن" کی حالت میں رکھنے کے لیے ایک چال چل رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا: مثال کے طور پر وہ تل ابیب کے ہوائی اڈے پر امریکی اور یورپی ہتھیاروں کی آمد کو مسلسل دکھاتے ہیں۔ یہ ہتھیار پہلے بھی آتے تھے، لیکن ان کی نمائش نہیں کی جاتی تھی۔ اب وہ ایسا دکھاوا کرتے ہیں، جیسے وہ تیاری کر رہے ہوں۔ ہم اس طرف سے تیار ہیں، لیکن ان ڈسپلے کی قیمت ان کے لئے ہے۔ کیہان اخبار کے چیف ایڈیٹر نے تاکید کی ہے کہ ہمیں ہمیشہ تیار رہنا چاہیئے، لیکن صیہونی حکومت اور خود امریکہ کو بہت سخت ضربیں لگیں۔ کیا اس سے پہلے کسی نے امریکہ پر حملہ کرنے کی جرات کی، ہم نے عین الاسد اور العدید کو نشانہ بنایا۔

امریکہ کے لئے یہ ایک آپریشنل اور وقار کا دھچکا تھا۔ اگرچہ جواری جھوٹے ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران پر 12 روزہ مسلط کردہ جنگ میں ان کا حملہ بہت مؤثر تھا، جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ امریکی طیارے ایران پر حملہ کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے، لیکن انہوں نے کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کی۔ اس کے برعکس ہماری دشمن کو لگائی گئی ضرب کاری تھی۔ شریعتمداری نے تاکید کی ہے کہ صیہونی حکومت اور امریکہ کے لیے یہ ایک دھچکا تھا۔ وہ امپیریالسٹ شہنشاہ کی طرح دنیا پر حکمرانی کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان کا بھرم ٹوٹ چکا ہے، ساکھ خراب ہوچکی اور ان کو جو نقصان پہنچا ہے، اس کا ازالہ بہت مشکل ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے مزید کہا ہے کہ ہمیں ہمیشہ کے چیف ایڈیٹر صیہونی حکومت رہنا چاہیئے نے امریکہ کہا ہے کہ کہ ایران لیکن ان

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد