Islam Times:
2026-06-03@03:49:02 GMT

دشمن کی نہ جنگ نہ امن کی خطرناک سازش

اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT

دشمن کی نہ جنگ نہ امن کی خطرناک سازش

اسلام ٹائمز: شریعتمداری نے اپنے تجزیہ میں کہا ہے کہ ہمیں ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیئے۔ امریکہ اور صیہونی حکومت ایران کو "نہ جنگ اور نہ امن" کی حالت میں رکھنے کیلئے ایک چال چل رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا: مثال کے طور پر وہ تل ابیب کے ہوائی اڈے پر امریکی اور یورپی ہتھیاروں کی آمد کو مسلسل دکھاتے ہیں۔ یہ ہتھیار پہلے بھی آتے تھے، لیکن انکی نمائش نہیں کی جاتی تھی۔ اب وہ ایسا دکھاوا کرتے ہیں، جیسے وہ تیاری کر رہے ہوں۔ ہم اس طرف سے تیار ہیں، لیکن ان ڈسپلے کی قیمت ان کیلئے ہے۔ کیہان اخبار کے چیف ایڈیٹر نے تاکید کی ہے کہ ہمیں ہمیشہ تیار رہنا چاہیئے، لیکن صیہونی حکومت اور خود امریکہ کو بہت سخت ضربیں لگیں۔ کیا اس سے پہلے کسی نے امریکہ پر حملہ کرنے کی جرات کی، ہم نے عین الاسد اور العدید کو نشانہ بنایا۔ تحریر: مھدی طلوع وند

معروف ایرانی اخبار کیہان کے چیف ایڈیٹر حسین شریعتمداری نے گذشتہ رات (جمعرات 26 دسمبر) سما نیوز نیٹ ورک کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں ایران میں امریکی حملے کی ناکامی اور امریکی حملے کے بارے میں رہبر انقلاب اسلامی کے الفاظ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے پر سرسری نظر ڈالنے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ 90 ملین سے زیادہ ایرانی واضح طور پر جانتے ہیں کہ اسرائیل کو شکست ہوئی، لیکن اندر اور باہر کچھ آوازیں کہتی ہیں کہ ایران ناکام ہوگیا ہے۔ ان لوگوں کے پاس کوئی دلیل یا دستاویزی ثبوت نہیں ہے۔ جناب شریعت مداری نے صیہونی حکومت کے رویئے کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ یہ حکومت کسی بھی بین الاقوامی ریڈ لائن پر عمل نہیں کرتی اور جنگ کے دوران جب بھی جنگ بندی قائم ہوئی تو اس نے بغیر کسی وضاحت کے فوراً اس کی خلاف ورزی کی۔

تاہم مسلط کردہ 12 روزہ جنگ میں یہ حکومت انتہائی مشکل حالات کی وجہ سے جنگ بندی کو توڑنے میں ناکام رہی۔ یہ جنگ ہمارے لیے مواقع کا ایک دھماکہ تھا اور ایک معتبر میڈیا رپورٹ میں واضح طور پر اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو ایک بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ شریعتمداری نے تاکید کی ہے کہ صیہونی تجزیہ نگاروں اور معتبر اخبارات نے لکھا ہے کہ ان کی دفاعی تہیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ہیں اور حالات مزید خراب ہوگئے ہیں۔ یہاں تک کہ بی بی سی کے رپورٹر نے بھی اسرائیلی عوام کی مایوسی اور نامرادی کو ان کے چہروں پر دیکھا اور کہا کہ کسی کو بھی توقع نہیں تھی کہ ایران کے حملے اتنے وسیع ہوں گے۔

اس افواہ کے بارے میں کہ ایران نے امریکہ کو پیغام دیا ہے، شریعتمداری نے کہا ہے  یہ افواہ سراسر جھوٹ ہے۔ چار اہم حکومتی مراکز کی سرکاری تردید کے باوجود کچھ میڈیا اداروں اور حتیٰ کہ حکومت کے اندر حساس عہدوں پر فائز افراد نے یہ جھوٹ پھیلایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا یہ کہانی صدر مسعود پزشکیان کے بن سلمان کو لکھے گئے خط سے شروع ہوئی، جسے رائٹرز نے شائع کیا اور وزارت خارجہ، حج آرگنائزیشن کے سربراہ، حکومتی ترجمان اور سعودی عرب میں ایرانی سفیر کی طرف سے اس کی تردید کی گئی، لیکن پھر بھی کچھ لوگوں نے اس جھوٹ کو پھیلایا۔ کیہان اخبار کے چیف ایڈیٹر نے تاکید کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ ہمارا مسئلہ رابطے یا اس طرح کے پیغامات بھیجنے کا نہیں ہے اور نہ ہی کسی حکومت نے اس کی کوشش کی ہے اور یورپ اور دوسرے ممالک بھی ثالثی نہیں کرسکتے ہیں، کیونکہ اسلامی جمہوریہ اس مسئلہ کو قبول نہیں کرتا۔

شریعتمداری نے اپنے تجزیہ میں کہا ہے کہ ہمیں ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیئے۔ امریکہ اور صیہونی حکومت ایران کو "نہ جنگ اور نہ امن" کی حالت میں رکھنے کے لیے ایک چال چل رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا: مثال کے طور پر وہ تل ابیب کے ہوائی اڈے پر امریکی اور یورپی ہتھیاروں کی آمد کو مسلسل دکھاتے ہیں۔ یہ ہتھیار پہلے بھی آتے تھے، لیکن ان کی نمائش نہیں کی جاتی تھی۔ اب وہ ایسا دکھاوا کرتے ہیں، جیسے وہ تیاری کر رہے ہوں۔ ہم اس طرف سے تیار ہیں، لیکن ان ڈسپلے کی قیمت ان کے لئے ہے۔ کیہان اخبار کے چیف ایڈیٹر نے تاکید کی ہے کہ ہمیں ہمیشہ تیار رہنا چاہیئے، لیکن صیہونی حکومت اور خود امریکہ کو بہت سخت ضربیں لگیں۔ کیا اس سے پہلے کسی نے امریکہ پر حملہ کرنے کی جرات کی، ہم نے عین الاسد اور العدید کو نشانہ بنایا۔

امریکہ کے لئے یہ ایک آپریشنل اور وقار کا دھچکا تھا۔ اگرچہ جواری جھوٹے ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران پر 12 روزہ مسلط کردہ جنگ میں ان کا حملہ بہت مؤثر تھا، جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ امریکی طیارے ایران پر حملہ کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے، لیکن انہوں نے کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کی۔ اس کے برعکس ہماری دشمن کو لگائی گئی ضرب کاری تھی۔ شریعتمداری نے تاکید کی ہے کہ صیہونی حکومت اور امریکہ کے لیے یہ ایک دھچکا تھا۔ وہ امپیریالسٹ شہنشاہ کی طرح دنیا پر حکمرانی کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان کا بھرم ٹوٹ چکا ہے، ساکھ خراب ہوچکی اور ان کو جو نقصان پہنچا ہے، اس کا ازالہ بہت مشکل ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے مزید کہا ہے کہ ہمیں ہمیشہ کے چیف ایڈیٹر صیہونی حکومت رہنا چاہیئے نے امریکہ کہا ہے کہ کہ ایران لیکن ان

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد