بھارتی میڈیا نے تیجس حادثہ کا ذمہ دار امریکا کو ٹھہرا دیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
بھارت کے گودی میڈیا نے ایک مرتبہ پھر بھارت کی نااہلی چھپانے کیلئے تیجس طیارہ حادثہ امریکی انجن پر ڈال دیا۔
جنرل (ر) بخشی اور ارنب گوسوامی طیارہ حادثہ کی ذمہ داری امریکی انجن پر ڈال کر بھارت کی دفاعی کمزوری چھپانے کی کوشش میں لگے رہے۔
ارنب گوسوامی نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے GE 404 انجن کی تاخیر سے فراہمی نے بھی بھارت کی دفاعی تیاری میں خطرناک خلا پیدا کر دیا، تیجس امریکی جنرل الیکٹرک کے بنائے ہوئے انجن سے چلتا ہے، اور جنرل الیکٹرک بھارت کا کبھی دوست نہیں رہا۔
ارنب گوسوامی نے کہا کہ امریکی حکومت نے تیجس کیلئے اگلی نسل کے انجنوں کی ڈلیوری سست کرنے کی کوشش کی، امریکہ ایل سی اے پروگرام اور تیجس کو ایک خطرہ سمجھتا ہے۔
جنرل بخشی نے کہا کہ آپ نہیں جانتے کہ کب سندور 2.
بھارتی سرکار اور اس کا گودی میڈیا اپنی ان حرکات کی وجہ سے نا صرف جگہسائی کا سبب بنتے ہیں بلکہ بھارتی عوام کو بھی اصلی مسائل کی طرف سے ہٹاتے ہیں، اس ذاتی سیاسی اور معاشی مفاد کی خاطر بھارت ایک خطرناک بند گلی میں داخل ہوتا جا رہا ہے۔
امریکا پر ملبہ ڈالنا بارآور ثابت نہ ہوا، طیارہ حادثہ بھارتی دفاعی صنعت کی ناکامی کا واضح عکاس ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :