ایران نے 12 روزہ جنگ میں امریکا اور اسرائیل کو شکست دی، آیت اللہ خامنہ ای
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے سرکاری ٹی وی پر اہم خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ اور لبنان کی مزاحمتی تحریکیں ایرانی اصولوں اور اقدار پر قائم ہیں، جنہوں نے خطّے میں ظلم کے خلاف مضبوط محاذ قائم کیا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے دعویٰ کیا کہ ایرانی قوم نے حالیہ بارہ روزہ جنگ میں امریکا اور اسرائیل کو تاریخی شکست دی۔ انہوں نے کہا کہ دشمن پوری تیاری کے ساتھ آیا اور شر پھیلانے کی کوشش کی، لیکن آخرکار شکست کھا کر خالی ہاتھ واپس لوٹ گیا۔
سپریم لیڈر کے مطابق صیہونی حکومت نے اس جنگ کے لیے بیس سال کی منصوبہ بندی کی تھی، مگر ایرانی دفاعی نظام اور قومی مزاحمت کے سامنے وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کے دوران بھرپور کوششیں کیں، لیکن انہیں صرف ناکامی ہی حاصل ہوئی۔ انہوں نے زور دیا کہ ایرانی قوم کی استقامت نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے اور علاقائی مزاحمتی قوتیں ایرانی نظریے سے تقویت حاصل کر رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔