علیمہ خان کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروانے پر جیل سپرنٹنڈنٹ کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
---فائل فوٹو
پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروانے پر جیل سپرنٹنڈنٹ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی۔
علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی۔
درخواست کے متن کے مطابق 24 مارچ کے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کرنے پر توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی گئی ہے۔
سہیل خان آفریدی نے کہا کہ ہماری شنوائی نہیں ہوئی، ہمیں چیف جسٹس کی طرف سے پیغام ملا کہ میں آپ سے نہیں مل سکتا۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالتی حکم عدولی پر ذمہ داران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے، توہین عدالت کے مرتکب افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
علیمہ خانم نے اپنی درخواست میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل، وفاقی سیکریٹری داخلہ اور سیکریٹری داخلہ پنجاب کو فریق بنایا ہے۔
بعد ازاں علیمہ خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ آج عدالتوں کے دروازے عوام کے لیے بند ہیں، عدالتوں کی توہین ہے کہ ان کے آرڈرز نہیں مانے جا رہے، بانیٔ پی ٹی آئی کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: عدالت کی درخواست دائر توہین عدالت علیمہ خان
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔