پاکستان کا کمزور اقتصادی ڈھانچہ لرزرہا ہے
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (کامرس ڈ یسک)ملکی معیشت مسلسل دباؤ میں ہے پاکستان کا اقتصادی ڈھانچہ خطرناک حد تک غیر مستحکم ہو چکا ہے۔ پرانے قرضوں کی ادائیگی کے لیے مسلسل نئے قرضے لینے سے مجموعی قرضوں کا بوجھ تیزی سے بڑھ رہا ہے جبکہ نجی سرمایہ کاری میں نمایاں کمی ہو رہی ہے۔ متعدد کاروباری گروپ اپنے سرمائے کو بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں جس سے صنعتی پیداوار، روزگار اور ٹیکس وصولی پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے ایک بیان میں کہا کہ مقامی ماہرین کے بعد اب عالمی مالیاتی اداروں نے بھی پاکستان میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی، کمزور حکمرانی اور غیر شفاف انتظامی ڈھانچے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک سرکاری عمال کو اپنے اثاثوں کے گوشوارے جمع کرانے کا پابند نہیں بنایا جاتا احتساب کا عمل آگے نہیں بڑھ سکتا اور اصلاحات کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچ سکتا۔ بیوروکریسی کے منفی رویے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پانچ سو ارب روپے سے زیادہ ٹیکس دینے والے ٹیلی کام شعبے کے نمائندوں سے ملاقات کے لیے بھی اعلیٰ افسران کے پاس وقت نہیں ہے۔شاہد رشید بٹ نے کہا کہ بدعنوانی کے باعث اقتصادی شرح نمو متاثر ہو رہی ہے جس کا براہ راست اثر روزگار، قیمتوں اور نجی کاروبار کی لاگت پر پڑ رہا ہے۔خطے کے تقابلی جائزے میں پاکستان کی معاشی کمزوری مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔ بھارت گزشتہ برسوں میں چار اعشاریہ دو کھرب ڈالر کی معیشت کے ساتھ عالمی سطح پر چوتھی بڑی طاقت بن چکا ہے جبکہ پاکستان کا قومی بجٹ صرف باسٹھ ارب ڈالر ہے اور فی کس آمدنی تقریباً سترہ سو ڈالر کے قریب ہے۔ بالغ شرح خواندگی ساٹھ فیصد کے لگ بھگ ہے جو علاقائی ممالک سے کم ہے۔افغانستان سے تجارت کی معطلی کے حکومتی فیصلے پر بات کرتے ہوئے شاہد رشید بٹ نے کہا کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور یہ فیصلہ دفاعی نقطہ نظر سے ضروری ہے۔ تجارتی تعطل اس وقت تک برقرار رکھا جائے جب تک طالبان حکومت دہشت گردی نہیں روکتی طالبان رہنماؤں کو جاری کئے گئے تمام فری ہیلتھ کارڈ بھی فوری منسوخ کیے جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :