چیئرمین جناح ٹاؤن کا تجاوزات کیخلاف سخت کارروائی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)چیئرمین جناح ٹاؤن رضوان عبد السمیع کے زیر صدارت محکمہ اینٹی انکروچمنٹ کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں علاقوں میں بڑھتی ہوئی غیر قانونی تجاوزات، واگزار شدہ مقامات کی نگرانی اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ٹاؤن چیئرمین نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ تجاوزات کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی اور عوامی راستوں، فٹ پاتھوں اور سرکاری اراضی پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انسداد تجاوزات کا عمل شفاف، غیر جانبدار اور مستقل بنیادوں پر کیا جائے گا۔ چیئرمین رضوان عبد السمیع نے افسران کو سختی سے ہدایت کی کہ کارروائی کے بعد واگزار ہونے والی جگہوں کی باقاعدہ نگرانی بھی یقینی بنائی جائے تاکہ دوبارہ تجاوزات نہ ہوسکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خود تجاوزات کیخلاف آپریشن کی براہِ راست نگرانی کریں گے اور تماممتعلقہ افسران سے جواب طلبی بھی کی جائے گی۔ ٹاؤن چیئرمین نے مزید کہا کہ آنے والے دنوں میں جناح ٹاؤن کے مختلف علاقوں میں انسداد تجاوزات کے سلسلے میں بڑے پیمانے پر مزید کارروائیاں بھی کی جائیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر مسافر آف لوڈ
کراچی:ایف آئی اے امیگریشن نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امیگریشن کلیئرنس کے دوران ایک مسافر کمیل عباس کو مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر آف لوڈ کردیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق تفصیلی جانچ کے دوران مسافر کے پاسپورٹ پر مشتبہ جعلی مہریں پائی گئیں۔ مشتبہ مہروں کی تصدیق انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم (IBMS) کے ذریعے کی گئی، تاہم متعلقہ آمد و روانگی کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہ ہونے پر مہروں کے جعلی ہونے کا شبہ مزید مضبوط ہو گیا۔
ترجمان کے مطابق ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران مسافر نے بیان دیا کہ اس نے اپنا پاسپورٹ اپنے دوست نعیم کے حوالے کیا تھا، جو اس وقت ملائیشیا میں مقیم ہے اور مبینہ طور پر اسی شخص نے پاسپورٹ پر جعلی پاکستانی امیگریشن مہریں لگوائیں۔ مسافر نے مذکورہ شخص کے رابطہ نمبرز بھی فراہم کر دیے ہیں۔
مسافر کو پرواز سے آف لوڈ کر کے مقدمہ مزید قانونی کارروائی، جامع تحقیقات اور جعلی امیگریشن مہروں کے استعمال میں ملوث تمام افراد کی نشاندہی کے لیے انسدادِ انسانی اسمگلنگ سرکل (AHTC) کے حوالے کر دیا گیا ہے۔