پونچھ،شناخت سیاست اور مزاحمت
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251128-03-3
پونچھ ایک نیم خود مختار ریاست اور اس کے بعد ریاست جموں وکشمیر کے حصے کے طور پر ایک مردم خیز خطہ رہا ہے۔ تقسیم ہند کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات نے نہ صرف ریاست جموں وکشمیر کو بلکہ خطہ ٔ پونچھ کو بھی دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ نقل مکانی کے جو دکھ برصغیر کے دوسرے علاقوں کو جھیلنا پڑے وہی زخم خطہ ٔ پونچھ کو بھی سہنا پڑے۔ غیر مسلم آبادی نے بھارت کی جانب نقل مکانی کی تو پونچھ کے علاقوں سے مسلمان آبادی نے پاکستان کے زیر انتظام علاقوں کا رُخ کیا۔ پونچھ کا مرکز پونچھ شہر تھا۔ اس سرزمین نے برصغیر کی سطح کے صحافی اْستاد قانون دان پیدا کیے۔ پونچھ کی تاریخ وثقافت اور سیاست پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور لکھا جاتا رہے گا۔ اس کام اور مواد میں ایک اضافہ آزادکشمیر کے معروف کالم نگار دانشور اور مصنف ارشاد محمود کی POONCH, IDENTITY, POLITICS AND RESISTANCE کے عنوان سے لکھی جانے والی کتاب ہے۔ ارشاد محمود صاحب ہمارے ہمدمِ دیرینہ ہیں۔ تنازع کشمیر اور اس کی مختلف جہتیں ان کی تحریر وں تصانیف کا بنیادی موضوع رہا ہے۔ سی پی ڈی آر کے نام سے ایک تنظیم کے ذریعے بھی خطے میں امن اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کام کرتے رہے اور اب کچھ عرصہ سے کینیڈا میں مقیم ہیں۔ کینیڈا میں بھی اپنی بہت سی مصروفیات کے ساتھ ساتھ کشمیر کاز کے ساتھ وابستہ ہیں جس کا ثبوت ان کی کتاب ہے۔
ارشاد محمود اس موضوع پر قلم اْٹھانے والے اپنے پیش رو محققین کی طرح پونچھ کی وجہ تسمیہ کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکے اور ان کا بھی یہی خیال ہے کہ یہ سنسکرت سے قریب تر ہے جس کا مطلب ریاست سے باہر کا علاقہ یا حصہ ہو سکتا ہے۔ پونچھ کی ریاست کے خودمختار ادوار کے بعد وہ جدید پونچھ کی اصطلاح اس دور کے لیے استعمال کرتے ہیں جب ڈوگرہ حکمرانوں نے اسے اپنے اقتدار کاحصہ بنایا اور اس پورے عرصے میں کشمیر دربار کے ساتھ پونچھ کے لوگوں کی ایک کشمکش سی چلتی رہی۔ بعد میں خود پونچھ کے اقتدار کے مقامی ایوانوں میں طاقت کا کھیل شروع ہوا جس سے پونچھ کی نیم خودمختار حیثیت کا دائرہ مزید تنگ ہوگیا۔ پہلی اور دوسرے جنگ عظیم نے پونچھ کے حالات کواس لحاظ سے متاثر کیا کہ یہاں کے لوگ برطانوی فوج کا حصہ بن کر اپنا عسکری کردار ادا کرتے رہے۔ ظاہر ہے کہ اس نے پونچھ کی سماجی سیاسی اور معاشی حرکیات کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مہاراجا ہری سنگھ کے اقتدار کے آخری دنوں میں پونچھ کی مسلم قیادت کے رجحانات برصغیر کی مقبول لہر تحریک پاکستان کی طرف رہے اور اس خطے کے عمائدین تحریک پاکستان کی سرگرمیوں میں وفود کے طور پر شرکت کرکے اپنا حصہ ڈالتے رہے۔ تقسیم کے وقت مہاراجا کے اقتدار کو حقیقی چیلنج پونچھ کے علاقوں سے درپیش تھا۔ اس ہنگامہ خیز صورت حال میں جو دو نام سردار محمد ابراہیم خان اور سردار عبدالقیوم خان اْبھرے ان کا تعلق پونچھ سے تھا۔ سردار ابراہیم خان آزادکشمیر کی باغی حکومت کے پہلے صدر قرار پائے جبکہ سردار عبدالقیوم خان اس جلسے کا نوجوان اور اہم کردار تھا جو ڈوگرہ حکومت کے خلاف نیلابٹ کے مقام پر ہوا تھا۔ جنگ شروع ہونے کے بعد آزادکشمیر کی مقامی فورسز نے دوسال تک پونچھ شہر کا محاصرہ کیے رکھا۔ یہ محاصر ہ کیوں ختم ہوا اور حریت پسندوں کے بڑھتے ہوئے قدم کیوں رک گئے بین السطور اس تحقیق میں بیان کیا گیا ہے۔
پونچھ کا کردار اس قدر اہم تھا کہ آزادکشمیر کی باغی اور انقلابی حکومت کا پہلا دارالحکومت بھی پونچھ کے علاقے جنجال ہل میں ایک خیمے میں قائم کیا گیا اور اپنا پیغام دنیا تک پہنچانے کے لیے جو ریڈیو اسٹیشن قائم کیا گیا اس کا نام بھی آزادکشمیر ریڈیو تراڑ کھل تھا۔ بعد میں یہ ریڈیو اسٹیشن راولپنڈی پشاور روڈ پر منتقل ہوا مگر آج تک یہ آزادکشمیر ریڈیو تراڑ کھل ہی کہلاتا ہے۔ حال ہی میں آزادکشمیر عدالت عظمیٰ کے سابق چیف جسٹس سید منظور حسین گیلانی کی کتاب آئینہ کشمیر منظر عام پر آئی ہے جس میں وہ انکشاف کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک انٹرویو میں شیخ محمد عبداللہ سے پوچھا کہ یہ اچھا نہ ہوتا کہ ریاست کو متحد رہنے دیا جاتا اور موجودہ تقسیم کو روکا جاتا تو ان کا کہنا ہے کہ ہم نے جو علاقہ لینا تھا وہ لے لیا تھا آگے قبائلی طرز کا علاقہ تھا وہاں ہم نے فورسز کو آگے بڑھنے سے روک دیا تھا۔
شیخ عبداللہ کا یہ دعویٰ درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پیر پنجال کے دوسری سمت پونچھ کا علاقہ مزاحمت اور بغاوت کی پہچان رکھتا تھا یوں اسے ان گورن ایبل سمجھا جا رہا تھا۔ یہ بات کسی حدتک درست تھی کہ پونچھ کا مزاحمانہ کردار اور مزاج پاکستان کے ساتھ مل کر بھی اپنا رنگ دکھاتا رہا، سردار ابراہیم خان کی برطرفی کے بعد اس علاقے نے مسلح مزاحمت کرکے پاکستان کی فورسز کو ٹف ٹائم دیا تھا۔ یہ مزاحمت اس قدر زور دار تھی کہ حکومت پاکستان کو ایک کھلے میدان میں عوام کے جم غفیر میں اس مزاحمت کے قائد سردار ابراہیم خان کے ساتھ معاہدہ کرنا پڑا تھا۔ حکومت پاکستان کی نمائندگی وزیر امور کشمیر نواب مشتاق گورمانی کر رہے تھے۔ حالیہ ایکشن کمیٹی کی تحریک میں بھی جو بات پالیسی سازوں کو خوف زدہ کیے ہوئے تھی وہ پونچھ کا مزاحمانہ اور باغیانہ مائنڈ سیٹ اور ردعمل کا خوف تھا۔ یوں بھی اس تحریک میں پونچھ کی قیادت کا لب ولہجہ واضح غیر مبہم اور بے لاگ تھا جس نے اسلام آباد کے منصوبہ سازوں کو ایکشن کمیٹی کے ساتھ وہ کچھ کرنے سے روکے رکھا جو وہ اپنے شہریوں سے حالیہ عرصے میں کر گزرتے رہے ہیں۔ پونچھ کی سیاست مزاحمت اور شناخت سمیت اس کے ہر پہلو کو سمجھنے کے لیے ارشاد محمود صاحب کی کتاب اس مواد میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ابراہیم خان پاکستان کی پونچھ کے پونچھ کا پونچھ کی کے ساتھ کے لیے کے بعد اور اس
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔