Jasarat News:
2026-06-03@02:26:32 GMT

آئی سی سی کا ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں بڑی تبدیلی پر غور

اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے نظام کو زیادہ مؤثر، مسابقتی اور دلچسپ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر تبدیلیوں پر غور شروع کر دیا ہے۔

اس سلسلے میں ایک خصوصی ورکنگ گروپ تشکیل دیا گیا ہے جس کی قیادت نیوزی لینڈ کے سابق بیٹر راجر ٹووز کر رہے ہیں اور اس کا بنیادی ہدف مستقبل کے بین الاقوامی کرکٹ شیڈول اور ٹیسٹ چیمپئن شپ کے مجموعی ڈھانچے کا ازسرِنو جائزہ لینا ہے۔

نیوزی لینڈ کے سابق بیٹر راجر ٹووز کی زیرِ نگرانی یہ گروپ رواں ماہ دبئی میں منعقدہ آئی سی سی کے سہ ماہی اجلاس میں اپنی ابتدائی سفارشات پیش کر چکا ہے، تاہم کرکٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ حتمی فیصلوں تک پہنچنے میں مزید وقت درکار ہوگا اور کسی بڑی پیش رفت کا امکان مارچ سے پہلے ظاہر نہیں کیا جا رہا۔

اب تک ٹیسٹ چیمپئن شپ میں نو ٹیمیں ایک ہی لیگ کا حصہ رہی ہیں اور ہر ٹیم چھ سیریز کے دوران کم از کم 12 میچ کھیلتی ہے۔ پوائنٹس ٹیبل میں مقام کا تعین مجموعی فتوحات کے تناسب کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ تاہم، اس فارمیٹ کی افادیت پر خود کرکٹ بورڈز کے اعلیٰ عہدیدار سوال اٹھا چکے ہیں۔

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رچرڈ تھامپسن نے رواں سال ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ موجودہ نظام ’’اپنے مقصد کے مطابق نتائج نہیں دے رہا‘‘ اور اس میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ مقابلہ مزید منصفانہ اور توازن پر مبنی ہو سکے۔

طویل عرصے سے زیرِ بحث یہ تجویز کہ ٹیسٹ چیمپئن شپ کو دو درجوں—ڈویژن ون اور ڈویژن ٹو—میں تقسیم کر دیا جائے، اب عملی طور پر ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس خیال کی مخالفت کی اہم وجہ یہ ہے کہ اگر نسبتا ً چھوٹی ٹیمیں نچلے درجے میں چلی جاتیں تو ان کی مالی مشکلات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا تھا۔

اس خطرے کا بھی اظہار کیا گیا کہ اگر انگلینڈ، آسٹریلیا یا بھارت جیسی مضبوط ٹیموں میں سے کوئی ٹیم تنزلی کا شکار ہو جاتی تو ان کے درمیان ہونے والی روایتی اور انتہائی منافع بخش ٹیسٹ سیریز—مثلاً ایشیز—شدید معاشی نقصان سے دوچار ہو جاتیں۔ ان ممالک کا بڑا مالی انحصار انہی مقبول ٹیسٹ سیریز کے نشریاتی معاہدوں پر ہے۔

موجودہ تجاویز کے مطابق ڈویژن والی تجویز ترک کر کے اب ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کو ایک وسیع تر عالمی لیگ کی شکل دینے کا امکان زیادہ ہے۔

تجویز ہے کہ لیگ کو 12 ٹیموں تک توسیع دی جائے، جس میں موجودہ نو ٹیموں کے ساتھ آئرلینڈ، افغانستان اور زمبابوے کو بھی شامل کیا جائے۔ اس تبدیلی کا مقصد ایک ایسا پلیٹ فارم تیار کرنا ہے جس میں تمام فل ممبرز برابر مواقع کے ساتھ مکمل عالمی مقابلہ پیش کر سکیں۔

نئے مجوزہ نظام میں یہ اصول برقرار رکھا جائے گا کہ ہر ٹیم دو سالہ چیمپئن شپ سائیکل کے دوران کم از کم 12 ٹیسٹ میچ ضرور کھیلے۔

البتہ سیریز کے فارمیٹ میں لچک پیدا کی جائے گی، جس کے تحت کسی سیریز کو ایک ٹیسٹ تک محدود بھی رکھا جا سکے گا جبکہ کسی سیریز کو پانچ میچوں تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس لچک کا بنیادی مقصد چھوٹے اور بڑے کرکٹ بورڈز کے مالی اور موسمی تقاضوں کو متوازن بنانا ہے۔

واضح رہے کہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ اس وقت اپنے چوتھے سائیکل میں داخل ہو چکی ہے، اور اب آئی سی سی اس تاریخی فارمیٹ کو جدید بین الاقوامی کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے سنجیدہ اصلاحات کی تیاری کر رہی ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ

پڑھیں:

چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟

پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔

متعلقہ مضامین

  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی