Jasarat News:
2026-07-24@02:34:29 GMT

آئی سی سی کا ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں بڑی تبدیلی پر غور

اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے نظام کو زیادہ مؤثر، مسابقتی اور دلچسپ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر تبدیلیوں پر غور شروع کر دیا ہے۔

اس سلسلے میں ایک خصوصی ورکنگ گروپ تشکیل دیا گیا ہے جس کی قیادت نیوزی لینڈ کے سابق بیٹر راجر ٹووز کر رہے ہیں اور اس کا بنیادی ہدف مستقبل کے بین الاقوامی کرکٹ شیڈول اور ٹیسٹ چیمپئن شپ کے مجموعی ڈھانچے کا ازسرِنو جائزہ لینا ہے۔

نیوزی لینڈ کے سابق بیٹر راجر ٹووز کی زیرِ نگرانی یہ گروپ رواں ماہ دبئی میں منعقدہ آئی سی سی کے سہ ماہی اجلاس میں اپنی ابتدائی سفارشات پیش کر چکا ہے، تاہم کرکٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ حتمی فیصلوں تک پہنچنے میں مزید وقت درکار ہوگا اور کسی بڑی پیش رفت کا امکان مارچ سے پہلے ظاہر نہیں کیا جا رہا۔

اب تک ٹیسٹ چیمپئن شپ میں نو ٹیمیں ایک ہی لیگ کا حصہ رہی ہیں اور ہر ٹیم چھ سیریز کے دوران کم از کم 12 میچ کھیلتی ہے۔ پوائنٹس ٹیبل میں مقام کا تعین مجموعی فتوحات کے تناسب کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ تاہم، اس فارمیٹ کی افادیت پر خود کرکٹ بورڈز کے اعلیٰ عہدیدار سوال اٹھا چکے ہیں۔

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رچرڈ تھامپسن نے رواں سال ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ موجودہ نظام ’’اپنے مقصد کے مطابق نتائج نہیں دے رہا‘‘ اور اس میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ مقابلہ مزید منصفانہ اور توازن پر مبنی ہو سکے۔

طویل عرصے سے زیرِ بحث یہ تجویز کہ ٹیسٹ چیمپئن شپ کو دو درجوں—ڈویژن ون اور ڈویژن ٹو—میں تقسیم کر دیا جائے، اب عملی طور پر ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس خیال کی مخالفت کی اہم وجہ یہ ہے کہ اگر نسبتا ً چھوٹی ٹیمیں نچلے درجے میں چلی جاتیں تو ان کی مالی مشکلات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا تھا۔

اس خطرے کا بھی اظہار کیا گیا کہ اگر انگلینڈ، آسٹریلیا یا بھارت جیسی مضبوط ٹیموں میں سے کوئی ٹیم تنزلی کا شکار ہو جاتی تو ان کے درمیان ہونے والی روایتی اور انتہائی منافع بخش ٹیسٹ سیریز—مثلاً ایشیز—شدید معاشی نقصان سے دوچار ہو جاتیں۔ ان ممالک کا بڑا مالی انحصار انہی مقبول ٹیسٹ سیریز کے نشریاتی معاہدوں پر ہے۔

موجودہ تجاویز کے مطابق ڈویژن والی تجویز ترک کر کے اب ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کو ایک وسیع تر عالمی لیگ کی شکل دینے کا امکان زیادہ ہے۔

تجویز ہے کہ لیگ کو 12 ٹیموں تک توسیع دی جائے، جس میں موجودہ نو ٹیموں کے ساتھ آئرلینڈ، افغانستان اور زمبابوے کو بھی شامل کیا جائے۔ اس تبدیلی کا مقصد ایک ایسا پلیٹ فارم تیار کرنا ہے جس میں تمام فل ممبرز برابر مواقع کے ساتھ مکمل عالمی مقابلہ پیش کر سکیں۔

نئے مجوزہ نظام میں یہ اصول برقرار رکھا جائے گا کہ ہر ٹیم دو سالہ چیمپئن شپ سائیکل کے دوران کم از کم 12 ٹیسٹ میچ ضرور کھیلے۔

البتہ سیریز کے فارمیٹ میں لچک پیدا کی جائے گی، جس کے تحت کسی سیریز کو ایک ٹیسٹ تک محدود بھی رکھا جا سکے گا جبکہ کسی سیریز کو پانچ میچوں تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس لچک کا بنیادی مقصد چھوٹے اور بڑے کرکٹ بورڈز کے مالی اور موسمی تقاضوں کو متوازن بنانا ہے۔

واضح رہے کہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ اس وقت اپنے چوتھے سائیکل میں داخل ہو چکی ہے، اور اب آئی سی سی اس تاریخی فارمیٹ کو جدید بین الاقوامی کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے سنجیدہ اصلاحات کی تیاری کر رہی ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ

پڑھیں:

فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان

 اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق