data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی ( اسٹاف رپورٹر)چیئرمین ناظم آباد ٹاؤن سید محمد مظفر نے میونسپل کمشنر اطہر سعید خان کے ہمراہ نیٹال کالونی ڈسپنسری یونین کمیٹی نمبر 04 کا تفصیلی دورہ کیا۔چیئرمین سید محمد مظفر نے ڈسپنسری کے مختلف شعبوں کا معائنہ کرتے ہوئے انتظامی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے کہادورے کا مقصد ڈسپنسری میں جاری ترقیاتی و بحالی کے کاموں کا جائزہ لینا، عوامی سہولیات میں بہتری اور انتظامی امور کو مزید مؤثر بنانا ہے۔اس موقع پر ڈائریکٹر سینی ٹیشن ظہیر احمد‘ فوکل پرسن کلک عثمان غنی‘ ڈپٹی ڈائریکٹر میڈیکل آصف و دیگر افسران بھی موجود تھے۔ چیئرمین سید محمد مظفر نے کہاعوام کو بنیادی صحت کی معیاری سہولیات فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ ڈسپنسری میں جاری تمام کام مکمل شفافیت، معیار اور رفتار کے ساتھ انجام دیے جائیں۔ ٹاؤن انتظامیہ کا مقصد یہ ہے کہ شہریوں کو اْن کی دہلیز پر بہتر علاج، صاف ماحول اور ذمہ دارانہ سروسز مہیا کی جائیں۔ چیئرمین نے متعلقہ افسران کو ہدایات دیتے ہوئے مزید کہا کہ ڈسپنسری میں سہولیات کی بہتری ناصرف ضروری ہے بلکہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔ ہم یہاں کے عوام کے لیے ایک ایسا صحت مرکز تشکیل دے رہے ہیں جو جدید، مؤثر اور ہر شخص کے لیے قابل رسائی ہو۔ اس موقع پر میونسپل کمشنراطہر سعید خان نے بھی مختلف شعبوں کا جائزہ لیا اور فیلڈ ٹیم کو ضروری رہنمائی فراہم کی۔ انہوں نے کہاناظم آباد ٹاؤن میں صفائی، صحت اور میڈیکل سے متعلقہ خدمات کے معیار میں بہتری کے لیے مسلسل کام جاری ہے۔ ڈسپنسری کی بحالی اور سہولیات میں اضافہ شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہماری سنجیدہ کاوش ہے۔

 

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان