ایبٹ آباد میں گاڑی کھائی میں گرنے سے طالبات سمیت 6 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایبٹ آباد کے پہاڑی علاقے میں تھانہ بگنوتر کی حدود میں واقع بیرن گلی کے قریب ایک کیری ڈبہ اچانک بے قابو ہوکر انتہائی گہری کھائی میں جاگرا، جس کے نتیجے میں 5 افراد موقع پر ہی زندگی کی بازی ہار گئے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق گاڑی بریک فیل ہونے کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوئی۔
مقامی ذرائع کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب یاسر خلیل نامی ڈرائیور اپنی گاڑی کے ساتھ بیرن گلی سے ایبٹ آباد کی جانب آ رہا تھا کہ کھڑی مقام پر اچانک گاڑی کا توازن بگڑ گیا۔ شدید ڈھلوان کے باعث کیری ڈبہ تقریباً ایک ہزار فٹ تک لڑھکتا ہوا نیچے گہری کھائی میں جا گرا۔
گرنے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی اور اس میں سوار 6 افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں 2 انٹرمیڈیٹ کی طالبات بھی شامل تھیں جو اپنے امتحان دینے ایبٹ آباد جا رہی تھیں۔
مرنے والوں میں باپ بیٹا ذوالفقار اور زبیر، 2سگی بہنیں دختران شبیر احمد، ڈرائیور یاسر خلیل اور ایک اور شخص اختر شامل ہیں۔ مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت کئی گھنٹوں تک ریسکیو آپریشن کرکے لاشوں کو نکالا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایبٹ آباد
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔