قم، شہید علی ناصر صفوی کی برسی کے موقع پر محفل مسالمہ 27 نومبر کو منعقد ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
امریکی استعمار کے ہاتھوں اپنی زوجہ سمیت شہید ہونیوالے ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید کے رفیق خاص شہید علی ناصر صفوی کی برسی پر منعقد ہونیوالی محفل مسالمہ میں معروف شعرائے کرام اپنا کلام پیش کرینگے۔ اسلام ٹائمز۔ پیکر ایثار شہید علی ناصر صفوی کی شہادت کی برسی کی مناسبت سے بقیۃ اللہ اسلامک انسٹی ٹیوٹ قم کے زیراہتمام محفل مسالمہ منعقد ہوگی۔ امریکی استعمار کے ہاتھوں اپنی زوجہ سمیت شہید ہونیوالے ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید کے رفیق خاص شہید علی ناصر صفوی کی برسی پر منعقد ہونیوالی محفل مسالمہ میں مولانا عباس ثاقب، مولانا صائب جعفری، مولانا یاور عباس، مولانا یوشع ظفر حیاتی، مولانا ولایت حسین ولایتی، مولانا کاچو اظہر، مولانا زین عباس، مولانا عنایت علی شریفی، مولانا محسن آھیر، مولانا کاچو یوسف دانش، مولانا صادق علی قمی، مولانا کمیل شیرازی، مولانا ابراہیم نوری، مولانا شفیع رضوی بھیکپوری، مولانا صادق ناصری، مولانا علی رضا تقوی، مولانا رحیم درانی اور مولانا حیدر انقلابی "میں ناصر امام ہوں، یہ میرا افتخار ہے" کے عنوان سے اپنا کلام پیش کرینگے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محفل مسالمہ کی برسی
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔