نیپال نے 100 روپے کا نیا نوٹ جاری کردیا، بھارت کیوں بوکھلا گیا؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
نیپال نے نیا 100 نیپالی روپے کا نوٹ جاری کیا ہے جس پر بھارت میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’اندازہ نہیں ہوا کہ کیا کر رہا ہوں‘، نیپال میں بھارتی پرچم تھامنے والے پاکستانی ریپر نے معافی مانگ لی
بھارتی میڈیا کے مطابق مذکورہ نوٹ پر ترمیم شدہ نقشہ چھاپا گیا ہے۔ اس نقشے میں کالاپانی، لیپولیکھ اور لمپیادھورا کو نیپال کی حدود کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جنہیں بھارت اپنا علاقہ قرار دیتا ہے۔
نیپال راشٹرا بینک کے مطابق نئے نوٹ میں سیکیورٹی فیچرز کو مزید بہتر بنایا گیا ہے تاکہ اس کی تصدیق اور استعمال زیادہ مؤثر ہو سکے۔
یہ نوٹ سابق گورنر مہا پرساد ادھیکاری کے دستخطوں کے ساتھ جاری کیا گیا ہے جبکہ اس پر درج تاریخ اجرا 2081 بی ایس (2024) ہے۔
مزید پڑھیے: نیپال میں 2 سالہ آریاتارا شاکیہ نئی زندہ دیوی ’کمارى‘ منتخب
گزشتہ برس اکتوبر میں نیپالی سینٹرل بینک نے نئی کرنسی کی طباعت کا کام ایک چینی کمپنی کے سپرد کیا تھا۔ مئی 2024 میں سابق نیپالی وزیراعظم کے پی شرما اوُلی کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں اس نوٹ کے ڈیزائن کی منظوری دی گئی تھی۔
بینک کے مطابق متنازع علاقوں والا نقشہ پہلے بھی 100 روپے کے نوٹ پر موجود تھا تاہم حکومت کے فیصلے کے تحت اسے مزید واضح کرتے ہوئے نئے ڈیزائن میں شامل کیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق نیپال کے تمام کرنسی نوٹوں میں سے صرف 100 روپے کے نوٹ پر ملک کا نقشہ موجود ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور نیپال میں قتل کی سازش، امریکا میں بھارتی ایجنٹ کو مقدمے کا سامنا
واضح رہے کہ مئی 2020 میں کے پی شرما اوُلی کی حکومت نے ایک نیا سیاسی نقشہ جاری کیا تھا جس میں مذکورہ متنازع علاقوں کو نیپالی حدود کے اندر دکھایا گیا تھا جسے بعد میں پارلیمنٹ نے بھی منظور کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: سوشل میڈیا بطور ہتھیار، نیپال میں کامیاب تجربہ
نئے نقشے والے نوٹ کے اجرا کے بعد بھارت نے اپنی پوزیشن دہراتے ہوئے کہا ہے کہ یہ علاقے بھارت کا حصہ ہیں اور نیپال کی جانب سے نقشے میں ترمیم کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت نیپال نیپال کا 100 روپے کا نوٹ نیپالی نوٹ اور بھارتی بوکھلاہٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت نیپال نیپال میں کے مطابق گیا ہے
پڑھیں:
سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔
بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس
کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔
حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔
سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ
سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:
گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے
معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔
اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔
دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔