مغربی کنارے پر صیہونی شب خون
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
اسلام ٹائمز: مغربی کنارے کی تاریخ مختلف قسم کے نشیب و فراز سے بھری پڑی ہے اور وہ غاصب صیہونی رژیم کے ظلم و ستم سے لہو لہو ہے۔ 7 اکتوبر 2023ء کے دن طوفان الاقصی آپریشن اور اس کے بعد غزہ جنگ کے آغاز سے اب تک صیہونی فوج نے مغربی کنارے کو بارہا جارحیت اور بربریت کا نشانہ بنایا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس دوران تقریباً 1 ہزار فلسطینی شہری شہید ہو چکے ہیں۔ صرف اکتوبر 2023ء سے 2024ء کے آخر تک غاصب صیہونی فوج نے 1860 مرتبہ مغربی کنارے پر جارحیت کی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکثر مواقع پر صیہونی فوجیوں نے غیر قانونی شدت پسندی کا مظاہرہ کیا ہے۔ فلسطینی شہریوں کو شہید کرنے کے علاوہ صیہونی فوج نے ان جارحانہ اقدامات کے دوران کئی فلسطینی زمینوں پر بھی غاصبانہ قبضہ جما لیا ہے۔ تحریر: علی احمدی
غاصب صیہونی فوج نے مغربی کنارے کے شمالی حصوں پر انتہائی بے رحمی سے فوجی جارحیت اور بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے جانی اور مالی نقصان کو عروج تک پہنچا دیا ہے۔ عبرانی اخبار یدیعوت آحارنوت نے رپورٹ دی ہے کہ صیہونی فوج کے تین بریگیڈز جن میں مناشہ، شومرون اور کمانڈو فورس کا بریگیڈ شامل تھا، نے طوباس آپریشن میں حصہ لیا۔ دوسری طرف صیہونی فوج نے صوبہ کردہ کی مین سڑکیں بھی بلاک کرنا شروع کر دی ہیں تاکہ اس طرح علاقے پر اپنا کنٹرول مکمل کر سکے۔ یہ اقدام اس فوجی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے جس کا مقصد فلسطینی عوام کی نقل و حرکت میں شدید خلل ڈالنا اور مغربی کنارے کے مختلف شہروں کا رابطہ ایکدوسرے سے منقطع کر دینا ہے۔ زمینی حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ تل ابیب اس علاقے میں طویل مدت تک فوجی موجودگی کا ارادہ رکھتا ہے۔
مقامی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ غاصب صیہونی فوج نے بھاری مقدار میں نفری اور فوجی سازوسامان جن میں بلڈوزر اور بھاری ہتھیار شامل ہیں، طوباس شہر منتقل کر چکی ہے۔ فضا میں بھی بڑے پیمانے پر فوجی آپاچی ہیلی کاپٹر پرواز کر رہے ہیں اور انہوں نے فائرنگ کے ذریعے طوباس شہر میں شدید خوف و ہراس کی فضا پیدا کر رکھی ہے۔ اس حد تک منظم فضائی اور زمینی آپریشن سے ظاہر ہوتا ہے کہ غاصب صیہونی فوج طوباس شہر کا مکمل محاصرہ کرنے اور ایک بڑا سیکورٹی آپریشن کرنے کی تیار میں مصروف ہے۔ زمینی حقائق واضح طور پر ایک جارحانہ فوجی آپریشن کے لیے بڑے پیمانے پر فوجی منصوبہ بندی ظاہر کرتے ہیں۔ ان رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ صیہونی فوج نے طوباس اور اس کے اردگرد علاقوں میں شہری نقل و حرکت پر پوری پابندی عائد کر دی ہے۔
خاموش قبضہ
غاصب صیہونی فوج کی مغربی کنارے کے شمالی حصے میں بڑے پیمانے پر فوجی نقل و حرکت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فوجی آپریشن آئندہ چند دن تک جاری رہ سکتا ہے۔ صیہونی فوج نے اس آپریشن کے جو اہداف بیان کیے ہیں ان میں اسلامی مزاحمت کے سرگرم عناصر کی گرفتاری شامل ہے۔ طوباس کے گورنر احمد الاسعد نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صیہونی حکمرانوں نے انہیں سرکاری طور پر اطلاع دی ہے کہ موجودہ آپریشن چند دن تک جاری رہے گا۔ مزید برآں، انہوں نے واضح کیا ہے کہ طوباس میں ایسا کوئی شخص موجود نہیں جس کے وارنٹ گرفتاری نکل چکے ہوں۔ ان کا یہ موقف غاصب صیہونی فوج کی جانب سے اعلان کردہ اہداف کے بارے میں سوالات جنم دینے کے ساتھ ساتھ اس کے حقیقی اہداف سے پردہ ہٹا رہے ہیں۔
طوباس کے گورنر نے اس صوبے کے محل وقوع اور غور اردن کے شمال سے اس کی قربت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اسے صیہونی فوج کی جارحیت کی اصل وجہ قرار دیا ہے۔ صیہونی فوجیوں کی بڑی تعداد میں تعیناتی نے عام فلسطینی شہریوں کی زندگی مفلوج کر کے رکھ دی ہے۔ یہ محاصرہ اور بھاری فوجی موجودگی نے فلسطینی شہریوں خاص طور پر مسن افراد، بیمار افراد اور بچوں کی زندگی بھی خطرے میں ڈال دی ہے۔ یوں طوباس اس وقت ایسے شدید سیکورٹی دباو کا شکار ہو چکا ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ صیہونی فوج نے طوباس میں اس آپریشن کے ساتھ ہی مغربی کنارے کے دیگر علاقوں پر بھی جارحیت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ حال ہی میں صیہونی فوجیوں نے جنین کے جنوب میں قباطیہ علاقے پر حملہ کیا اور فلسطینیوں کے گھروں میں گھس کر تلاشی لی۔
حماس کا ردعمل
حماس نے مغربی کنارے پر صیہونی فوج کی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے غاصب صیہونی رژیم کے خفیہ اور خطرناک عزائم کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ حماس نے کہا ہے کہ غاصب صیہونی فوج مغربی کنارے، خاص طور پر صوبہ طوباس پر وسیع فوجی جارحیت کے ذریعے اس مرحلے پر عملدرآمد کرنے کے درپے ہے جس میں اس علاقے سے فلسطینیوں کی موجودگی مکمل طور پر ختم کر دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ حماس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ صوبہ طوباس پر صیہونی فوج کی جارحیت ہر گز ایک عارضی اقدام نہیں ہے بلکہ غاصب صیہونی رژیم طویل المیعاد فوجی موجودگی کا ارادہ رکھتی ہے اور اس صوبے سے فلسطینیوں کا تشخص اور زندگی کے تمام آثار ختم کر دینا چاہتی ہے۔ حماس نے خبردار کیا ہے کہ غاصب صیہونی رژیم مقبوضہ فلسطین میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور فلسطینی سرزمینوں پر غاصبانہ قبضہ بڑھانا چاہتے ہیں۔
ظلم کا شکار سرزمین
مغربی کنارے کی تاریخ مختلف قسم کے نشیب و فراز سے بھری پڑی ہے اور وہ غاصب صیہونی رژیم کے ظلم و ستم سے لہو لہو ہے۔ 7 اکتوبر 2023ء کے دن طوفان الاقصی آپریشن اور اس کے بعد غزہ جنگ کے آغاز سے اب تک صیہونی فوج نے مغربی کنارے کو بارہا جارحیت اور بربریت کا نشانہ بنایا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس دوران تقریباً 1 ہزار فلسطینی شہری شہید ہو چکے ہیں۔ صرف اکتوبر 2023ء سے 2024ء کے آخر تک غاصب صیہونی فوج نے 1860 مرتبہ مغربی کنارے پر جارحیت کی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکثر مواقع پر صیہونی فوجیوں نے غیر قانونی شدت پسندی کا مظاہرہ کیا ہے۔ فلسطینی شہریوں کو شہید کرنے کے علاوہ صیہونی فوج نے ان جارحانہ اقدامات کے دوران کئی فلسطینی زمینوں پر بھی غاصبانہ قبضہ جما لیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: غاصب صیہونی فوج نے غاصب صیہونی رژیم فلسطینی شہریوں مغربی کنارے کے صیہونی فوجیوں صیہونی فوج کی پر صیہونی فوج اکتوبر 2023ء جارحیت کی کی رپورٹ اور اس کیا ہے گیا ہے
پڑھیں:
فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔
یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟
30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:
’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘
اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘
اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔
ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘
اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔
اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔
View this post on Instagramحقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟
اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔
ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔
اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:
’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘
"An Indian thrashed in Thailand." ????
A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.
As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF
دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔
خبر کی سرخی تھی:
’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘
رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔
ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔
فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار
یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔