Islam Times:
2026-07-24@03:20:47 GMT

مغربی کنارے پر صیہونی شب خون

اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT

مغربی کنارے پر صیہونی شب خون

اسلام ٹائمز: مغربی کنارے کی تاریخ مختلف قسم کے نشیب و فراز سے بھری پڑی ہے اور وہ غاصب صیہونی رژیم کے ظلم و ستم سے لہو لہو ہے۔ 7 اکتوبر 2023ء کے دن طوفان الاقصی آپریشن اور اس کے بعد غزہ جنگ کے آغاز سے اب تک صیہونی فوج نے مغربی کنارے کو بارہا جارحیت اور بربریت کا نشانہ بنایا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس دوران تقریباً 1 ہزار فلسطینی شہری شہید ہو چکے ہیں۔ صرف اکتوبر 2023ء سے 2024ء کے آخر تک غاصب صیہونی فوج نے 1860 مرتبہ مغربی کنارے پر جارحیت کی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکثر مواقع پر صیہونی فوجیوں نے غیر قانونی شدت پسندی کا مظاہرہ کیا ہے۔ فلسطینی شہریوں کو شہید کرنے کے علاوہ صیہونی فوج نے ان جارحانہ اقدامات کے دوران کئی فلسطینی زمینوں پر بھی غاصبانہ قبضہ جما لیا ہے۔ تحریر: علی احمدی
 
غاصب صیہونی فوج نے مغربی کنارے کے شمالی حصوں پر انتہائی بے رحمی سے فوجی جارحیت اور بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے جانی اور مالی نقصان کو عروج تک پہنچا دیا ہے۔ عبرانی اخبار یدیعوت آحارنوت نے رپورٹ دی ہے کہ صیہونی فوج کے تین بریگیڈز جن میں مناشہ، شومرون اور کمانڈو فورس کا بریگیڈ شامل تھا، نے طوباس آپریشن میں حصہ لیا۔ دوسری طرف صیہونی فوج نے صوبہ کردہ کی مین سڑکیں بھی بلاک کرنا شروع کر دی ہیں تاکہ اس طرح علاقے پر اپنا کنٹرول مکمل کر سکے۔ یہ اقدام اس فوجی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے جس کا مقصد فلسطینی عوام کی نقل و حرکت میں شدید خلل ڈالنا اور مغربی کنارے کے مختلف شہروں کا رابطہ ایکدوسرے سے منقطع کر دینا ہے۔ زمینی حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ تل ابیب اس علاقے میں طویل مدت تک فوجی موجودگی کا ارادہ رکھتا ہے۔
 
مقامی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ غاصب صیہونی فوج نے بھاری مقدار میں نفری اور فوجی سازوسامان جن میں بلڈوزر اور بھاری ہتھیار شامل ہیں، طوباس شہر منتقل کر چکی ہے۔ فضا میں بھی بڑے پیمانے پر فوجی آپاچی ہیلی کاپٹر پرواز کر رہے ہیں اور انہوں نے فائرنگ کے ذریعے طوباس شہر میں شدید خوف و ہراس کی فضا پیدا کر رکھی ہے۔ اس حد تک منظم فضائی اور زمینی آپریشن سے ظاہر ہوتا ہے کہ غاصب صیہونی فوج طوباس شہر کا مکمل محاصرہ کرنے اور ایک بڑا سیکورٹی آپریشن کرنے کی تیار میں مصروف ہے۔ زمینی حقائق واضح طور پر ایک جارحانہ فوجی آپریشن کے لیے بڑے پیمانے پر فوجی منصوبہ بندی ظاہر کرتے ہیں۔ ان رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ صیہونی فوج نے طوباس اور اس کے اردگرد علاقوں میں شہری نقل و حرکت پر پوری پابندی عائد کر دی ہے۔
 
خاموش قبضہ
غاصب صیہونی فوج کی مغربی کنارے کے شمالی حصے میں بڑے پیمانے پر فوجی نقل و حرکت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فوجی آپریشن آئندہ چند دن تک جاری رہ سکتا ہے۔ صیہونی فوج نے اس آپریشن کے جو اہداف بیان کیے ہیں ان میں اسلامی مزاحمت کے سرگرم عناصر کی گرفتاری شامل ہے۔ طوباس کے گورنر احمد الاسعد نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صیہونی حکمرانوں نے انہیں سرکاری طور پر اطلاع دی ہے کہ موجودہ آپریشن چند دن تک جاری رہے گا۔ مزید برآں، انہوں نے واضح کیا ہے کہ طوباس میں ایسا کوئی شخص موجود نہیں جس کے وارنٹ گرفتاری نکل چکے ہوں۔ ان کا یہ موقف غاصب صیہونی فوج کی جانب سے اعلان کردہ اہداف کے بارے میں سوالات جنم دینے کے ساتھ ساتھ اس کے حقیقی اہداف سے پردہ ہٹا رہے ہیں۔
 
طوباس کے گورنر نے اس صوبے کے محل وقوع اور غور اردن کے شمال سے اس کی قربت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اسے صیہونی فوج کی جارحیت کی اصل وجہ قرار دیا ہے۔ صیہونی فوجیوں کی بڑی تعداد میں تعیناتی نے عام فلسطینی شہریوں کی زندگی مفلوج کر کے رکھ دی ہے۔ یہ محاصرہ اور بھاری فوجی موجودگی نے فلسطینی شہریوں خاص طور پر مسن افراد، بیمار افراد اور بچوں کی زندگی بھی خطرے میں ڈال دی ہے۔ یوں طوباس اس وقت ایسے شدید سیکورٹی دباو کا شکار ہو چکا ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ صیہونی فوج نے طوباس میں اس آپریشن کے ساتھ ہی مغربی کنارے کے دیگر علاقوں پر بھی جارحیت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ حال ہی میں صیہونی فوجیوں نے جنین کے جنوب میں قباطیہ علاقے پر حملہ کیا اور فلسطینیوں کے گھروں میں گھس کر تلاشی لی۔
 
حماس کا ردعمل
حماس نے مغربی کنارے پر صیہونی فوج کی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے غاصب صیہونی رژیم کے خفیہ اور خطرناک عزائم کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ حماس نے کہا ہے کہ غاصب صیہونی فوج مغربی کنارے، خاص طور پر صوبہ طوباس پر وسیع فوجی جارحیت کے ذریعے اس مرحلے پر عملدرآمد کرنے کے درپے ہے جس میں اس علاقے سے فلسطینیوں کی موجودگی مکمل طور پر ختم کر دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ حماس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ صوبہ طوباس پر صیہونی فوج کی جارحیت ہر گز ایک عارضی اقدام نہیں ہے بلکہ غاصب صیہونی رژیم طویل المیعاد فوجی موجودگی کا ارادہ رکھتی ہے اور اس صوبے سے فلسطینیوں کا تشخص اور زندگی کے تمام آثار ختم کر دینا چاہتی ہے۔ حماس نے خبردار کیا ہے کہ غاصب صیہونی رژیم مقبوضہ فلسطین میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور فلسطینی سرزمینوں پر غاصبانہ قبضہ بڑھانا چاہتے ہیں۔
 
ظلم کا شکار سرزمین
مغربی کنارے کی تاریخ مختلف قسم کے نشیب و فراز سے بھری پڑی ہے اور وہ غاصب صیہونی رژیم کے ظلم و ستم سے لہو لہو ہے۔ 7 اکتوبر 2023ء کے دن طوفان الاقصی آپریشن اور اس کے بعد غزہ جنگ کے آغاز سے اب تک صیہونی فوج نے مغربی کنارے کو بارہا جارحیت اور بربریت کا نشانہ بنایا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس دوران تقریباً 1 ہزار فلسطینی شہری شہید ہو چکے ہیں۔ صرف اکتوبر 2023ء سے 2024ء کے آخر تک غاصب صیہونی فوج نے 1860 مرتبہ مغربی کنارے پر جارحیت کی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکثر مواقع پر صیہونی فوجیوں نے غیر قانونی شدت پسندی کا مظاہرہ کیا ہے۔ فلسطینی شہریوں کو شہید کرنے کے علاوہ صیہونی فوج نے ان جارحانہ اقدامات کے دوران کئی فلسطینی زمینوں پر بھی غاصبانہ قبضہ جما لیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: غاصب صیہونی فوج نے غاصب صیہونی رژیم فلسطینی شہریوں مغربی کنارے کے صیہونی فوجیوں صیہونی فوج کی پر صیہونی فوج اکتوبر 2023ء جارحیت کی کی رپورٹ اور اس کیا ہے گیا ہے

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی