اپنے ایک جاری بیان میں حماس کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات صیہونی رژیم کی خطے میں افراتفری پھیلانے کی پالیسی کا تسلسل ہیں کہ اس وقت جس کا نشانہ ہمارا برادر عرب ملک بنا ہوا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شام کے دارالحکومت "دمشق" کے مضافاتی علاقے "بیت جن" پر صیہونی جارحیت کے خلاف دنیا بھر میں شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ اسی سلسلے میں فلسطین کی مقاومتی تحریک "جہاد اسلامی" نے کہا کہ بیت جن کے خلاف صیہونی جارحیت ظاہر کرتی ہے کہ یہ رژیم ہمارے خطے میں عدم استحکام اور شرارت کا منبع ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل، جنگ کے دائرے کو وسیع کرنا چاہتا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ہم بیت جن کے عوام کی صیہونی جارحیت کے خلاف شجاعانہ مزاحمت کی تعریف کرتے ہیں جس کے نتیجے میں کئی قابض فوجی ہلاک ہوئے۔ بیت جن کے عوام کی مزاحمت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ صرف مزاحمت ہی صیہونی قبضے اور اس کی بالادستی کو روکنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب "حماس" نے بھی اس واقعے پر ایک بیان جاری کر کے اعلان کیا کہ جنوبی شام کے علاقے بیت جن کے خلاف مجرمانہ صیہونی جارحیت کے نتیجے میں بچوں سمیت کئی شہریوں کی شہادت ہوئی۔ حماس نے کہا کہ یہ واقعہ شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔ اس طرح کے واقعات صیہونی رژیم کی خطے میں افراتفری پھیلانے کی پالیسی کا تسلسل ہیں کہ اس وقت جس کا نشانہ ہمارا برادر عرب ملک بنا ہوا ہے۔ ہم اس صیہونی جارحیت کے خلاف بیت جن کے رہائشیوں کی بہادرانہ مزاحمت کو سراہتے ہیں۔

نیز وہاں کے باشندوں کے ہاتھوں صیہونی فوجیوں کی دھلائی اور ساز و سامان کو نقصان پہنچانے کی تعریف کرتے ہیں۔ حماس نے کہا کہ ہم عرب لیگ، او آئی سی اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ عالمی و علاقائی، امن و استحکام کو یقینی بنانے اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کی خود مختاری کی اسرائیل کے ہاتھوں ہونے والی پامالیوں کو روکنے کے لئے فوری اقدامات کریں۔ قابل غور بات ہے کہ شام پر قابض باغیوں کی جولانی رژیم کی وزارت خارجہ نے بھی اس جارحیت پر اسرائیل کے خلاف ایک علامتی بیان جاری کیا، جس میں بیت جن پر صیہونی جارحیت کی مذمت کی گئی۔ اس بیان میں کہا گیا کہ اس علاقے میں جب قابض اسرائیل اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو اس نے وحشیانہ بمباری کا سہارا لیا۔ یاد رہے کہ آج جمعے کے روز شامی میڈیا نے رپورٹ دی کہ دمشق کے مضافات میں واقع "بیت جن" پر صیہونی فوج کے حملے کے بعد، قابض فورسز اور مقامی رہائشیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں 13 شہری شہید اور 25 زخمی ہوگئے۔ اس حملے میں کئی صیہونی فوجی میدان چھوڑ کر بھاگتے ہوئے زخمی ہوگئے۔ تازہ ترین اطلاعات كے مطابق، اسرائیل كی اس تسلط پسندانہ كارروائی میں اس کے 11 فوجی زخمی ہو گئے جن میں سے 3 کی حالت تشویشناک ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: صیہونی جارحیت کے پر صیہونی نے کہا کہ بیت جن کے کے خلاف

پڑھیں:

واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع

اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔

لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔

دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ