بیت جن پر صیہونی جارحیت کیخلاف حماس اور جہاد اسلامی کا ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
اپنے ایک جاری بیان میں حماس کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات صیہونی رژیم کی خطے میں افراتفری پھیلانے کی پالیسی کا تسلسل ہیں کہ اس وقت جس کا نشانہ ہمارا برادر عرب ملک بنا ہوا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شام کے دارالحکومت "دمشق" کے مضافاتی علاقے "بیت جن" پر صیہونی جارحیت کے خلاف دنیا بھر میں شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ اسی سلسلے میں فلسطین کی مقاومتی تحریک "جہاد اسلامی" نے کہا کہ بیت جن کے خلاف صیہونی جارحیت ظاہر کرتی ہے کہ یہ رژیم ہمارے خطے میں عدم استحکام اور شرارت کا منبع ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل، جنگ کے دائرے کو وسیع کرنا چاہتا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ہم بیت جن کے عوام کی صیہونی جارحیت کے خلاف شجاعانہ مزاحمت کی تعریف کرتے ہیں جس کے نتیجے میں کئی قابض فوجی ہلاک ہوئے۔ بیت جن کے عوام کی مزاحمت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ صرف مزاحمت ہی صیہونی قبضے اور اس کی بالادستی کو روکنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب "حماس" نے بھی اس واقعے پر ایک بیان جاری کر کے اعلان کیا کہ جنوبی شام کے علاقے بیت جن کے خلاف مجرمانہ صیہونی جارحیت کے نتیجے میں بچوں سمیت کئی شہریوں کی شہادت ہوئی۔ حماس نے کہا کہ یہ واقعہ شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔ اس طرح کے واقعات صیہونی رژیم کی خطے میں افراتفری پھیلانے کی پالیسی کا تسلسل ہیں کہ اس وقت جس کا نشانہ ہمارا برادر عرب ملک بنا ہوا ہے۔ ہم اس صیہونی جارحیت کے خلاف بیت جن کے رہائشیوں کی بہادرانہ مزاحمت کو سراہتے ہیں۔
نیز وہاں کے باشندوں کے ہاتھوں صیہونی فوجیوں کی دھلائی اور ساز و سامان کو نقصان پہنچانے کی تعریف کرتے ہیں۔ حماس نے کہا کہ ہم عرب لیگ، او آئی سی اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ عالمی و علاقائی، امن و استحکام کو یقینی بنانے اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کی خود مختاری کی اسرائیل کے ہاتھوں ہونے والی پامالیوں کو روکنے کے لئے فوری اقدامات کریں۔ قابل غور بات ہے کہ شام پر قابض باغیوں کی جولانی رژیم کی وزارت خارجہ نے بھی اس جارحیت پر اسرائیل کے خلاف ایک علامتی بیان جاری کیا، جس میں بیت جن پر صیہونی جارحیت کی مذمت کی گئی۔ اس بیان میں کہا گیا کہ اس علاقے میں جب قابض اسرائیل اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو اس نے وحشیانہ بمباری کا سہارا لیا۔ یاد رہے کہ آج جمعے کے روز شامی میڈیا نے رپورٹ دی کہ دمشق کے مضافات میں واقع "بیت جن" پر صیہونی فوج کے حملے کے بعد، قابض فورسز اور مقامی رہائشیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں 13 شہری شہید اور 25 زخمی ہوگئے۔ اس حملے میں کئی صیہونی فوجی میدان چھوڑ کر بھاگتے ہوئے زخمی ہوگئے۔ تازہ ترین اطلاعات كے مطابق، اسرائیل كی اس تسلط پسندانہ كارروائی میں اس کے 11 فوجی زخمی ہو گئے جن میں سے 3 کی حالت تشویشناک ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صیہونی جارحیت کے پر صیہونی نے کہا کہ بیت جن کے کے خلاف
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔