امارات نے پاکستانیوں کیلئے کوئی نئی ویزا پابندی نہیں لگائی: دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن پر مشاورت جاری ہے، مل کر گیس پائپ لائن کا حل نکالیں گے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہاہے کہ ڈاکٹرعلی لاریجانی کے بلینک چیک والے بیان کا خیرمقدم کیا گیا، پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن پر مشاورت جاری ہے، پاکستان اور ایران مل کر گیس پائپ لائن کا حل نکالیں گے ، بھارت مقبوضہ وادی میں جبری اقدامات کا خاتمہ اورایسے تمام قیدیوں کو رہا کرے، ، متحدہ عرب امارات نے پاکستانیوں کیلئے کوئی نئی ویزا پابندی نہیں لگائی، یو اے ای میں پاکستانی سفیر شفقت علی خان نے بھی پابندی کی تردید کی۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعظم نے بحرین کا دو روزہ دورہ کیا ، سیکرٹری ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل علی لاریجانی بھی پاکستان آئے، علی لاریجانی نے دو روزہ دورے میں پاکستانی قیادت سےمذاکرات کئے، پاکستان اور ایران نے مختلف عالمی فورم پر مل کر کام کرنے کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر دفاع نے سندھ کے حوالے سے اشتعال انگیز بیان دیا ہے، پاکستان بھارت کے ساتھ مسائل کا بات چیت کے ذریعہ پرامن حل کا حامی ہے، اقوام متحدہ ماہرین کی رپورٹ میں مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کو بےنقاب کیا گیا، رپورٹ کے مطابق 2800 کشمیری بھارتی حراست میں ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت مقبوضہ وادی میں جبری اقدامات کا خاتمہ اورایسے تمام قیدیوں کو رہا کرے، پاکستان کو تاریخی بابری مسجد کی جگہ مندر کا جھنڈا لہرانے پر سخت تحفظات ہیں۔ دفتر خارجہ نے بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز اقدامات پر شدید اظہار تشویش کیا ۔
ترجما ن کا کہناتھا کہ ہم اسرائیل کے فلسطین خصوصاً غزہ پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں، ان حملوں میں عورتوں اور بچوں سمیت نہتے فلسطینی عوام شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو او پی سی ڈبلیو رکن منتخب کر لیا گیا ہے۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن پر مشاورت جاری ہے، پاکستان اور ایران مل کر گیس پائپ لائن کا حل نکالیں گے، امید ہے پاک ایران گیس پائپ لائن کا معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو جائے گا، متحدہ عرب امارات نے پاکستانیوں کیلئے کوئی نئی ویزا پابندی نہیں لگائی، یو اے ای میں پاکستانی سفیر شفقت علی خان نے بھی پابندی کی تردید کی۔
ان کا کہناتھا کہ قائمہ کمیٹی کو شاید پرانے ریکارڈ کی بنیاد پر بریفنگ دی گئی، یو اے ای نے پاکستان کے حوالے سے کوئی نئی پابندی نہیں لگائی، متحدہ عرب امارات کی جانب سے کوئی نئی قانون سازی نہیں کی گئی۔
ترجمان نے کہا کہ بھارتی وزیردفاع نے عالمی قوانین سے متعلق خطرے کی گھنٹی بجا دی، سندھ پہلا صوبہ تھا جس نے قیام پاکستان کے حق میں ووٹ دیاتھا۔ پاکستان نے بھارت کو متنازع اور نفرت انگیز بیانات سے باز رہنے کا انتباہ کر دیا ۔
بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت آبی ڈیٹا شیئر نہیں کیا، طے شدہ ڈیٹا شیئرنگ کے طریقہ کار پر عمل نہ کرنا افسوسناک ہے، بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے ، پاکستان سندھ طاس معاہدے کے معاملے کا فالو اپ کر رہا ہے، ویانا میں غیر جانبدار ماہرین کے اجلاس میں بھی فالو اپ کیا گیا۔
پاکستان افغان مہاجرین کی واپسی کے حوالے کام کر رہا ہے، افغان مہاجرین کے حوالے سے پاکستان کے ادارے مستعد ہیں۔ وعدے کےمطابق افغان مہاجرین کےمتعلقہ مقامات پر پہنچنے میں تاخیر پرتحفظات کا اظہار کیا گیا ۔
طالبان حکومت آنے کے بعد کئی ممالک نےپاکستان سے رابطے کئے، داعش افغانستان میں موجود ہے اور وہاں ہی تشکیل پا رہی ہے، پاکستان میں داعش کی موجودگی کے افغان الزامات بے بنیاد ہیں، ڈاکٹرعلی لاریجانی کے بلینک چیک والے بیان کا خیرمقدم کیا گیا۔
دفتر خارجہ نے تیسرے ممالک میں آباد ہونے کے منتظر افغان شہریوں کی تاخیر پر اظہار تشویش کیا ، آباد کاری کا وعدے کرنے والے ممالک افغان شہریوں کو جلد پاکستان سے نکالیں، پاکستان نے کئی بار اس معاملے کو متعلقہ ممالک کے ساتھ اٹھایا، پاکستان کی سرزمین پر داعش کا کوئی وجود نہیں، دہشتگرد افغانستان میں آباد ہیں، دہشتگرد تنظیمیں افغان سرزمین پاکستان مخالف کارروائیوں کیلئےاستعمال کر رہی ہیں۔
بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت آبی ڈیٹا شیئر نہیں کیا، سندھ طاس معاہدے کے ڈیٹا کے معاملے کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے، پاکستان اورافغاں طالبان حکومت میں ثالثی کیلئے سعودی پیشکش کا علم نہیں، پاکستان ثالثی کی کسی بھی ٹھوس پیشکش کا خیرمقدم کرتا ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔
روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔
ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔
ایران جنگ پر سوالاتکانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔
جنگ کے معاشی اثراتایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقفمارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ
روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ