پاکستانیوں کو امارات کے ویزے نہ ملنے سے متعلق حکومت کی وضاحت سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
دفتر خارجہ نے عام شہریوں کو دبئی کے ویزا نہ ملنے سے متعلق سینیٹ کمیٹی میں وزارت داخلہ کی بریفنگ کو پرانا ریکارڈ قرار دے دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے آج خارجہ آفس میں صحافیوں کو بریفنگ دی۔
دبئی کے ویزا کی پاکستانیوں کے لیے بندش کے سوال پر انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے ویزوں پر کوئی نئی پابندی عائد نہیں کی گئی، یو اے ای میں پاکستانی سفیر شفقت علی خان نے بھی ویزوں پر پابندی کی تردید کی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر انداربی نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کو شاید پرانے ریکارڈ کی بنیاد پر بریفنگ دی گئی، یو اے ای نے پاکستان کے حوالے سے کوئی نئی پابندی نہیں لگائی۔
یہ پڑھیں : متحدہ عرب امارات نے عام پاکستانیوں کیلیے ویزے روک دیے، بڑا انکشاف
واضح رہے کہ کل سینیٹ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں خود وزارت داخلہ نے کمیٹی کو بریفنگ دی تھی کہ یو اے ای کی جانب سے عام شہریوں کو ویزا جاری نہیں کیے جارہے، بریفنگ میں اعتراف کیا گیا کہ پاکستانیوں پر ویزا کی پابندی لگتے لگتے رہ گئی تاہم ویزا اب بھی جاری نہیں ہورہے۔
مزید پڑھیں : پاکستانیوں کے لیے روزانہ 500 ویزے پراسیس ہو رہے ہیں، سفیر متحدہ عرب امارات
دوسری جانب یو اے ای کے سفیر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستانیوں کو یومیہ 500 ویزے جاری کیے جارہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یو اے ای
پڑھیں:
سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نےسرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس نے کہاکہ پولیس اور ایف آئی اے کو درخواست مطلوب نہیں، عدالت نے کہاکہ جن کو چاہئے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہئے پھر اب تک نام کیو ں نہیں نکالا۔
ایف آئی اے نے کہاکہ یار محمد رند کا نام ای سی ایل نہیں ،صرف پی این آئی ایل میں ہے،سابق وفاقی وزیر کا نام پی این آئی ایل میں 28مارچ کو ڈالا گیا، پی این آئی ایل میں نام ایک ماہ رکھاجاتا، پھرتوسیع لینا ہوتی ہے۔
ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
عدالت نے کہاکہ زیادہ سے زیادہ 60روز رکھ سکتےہیں، اب تو جولائی ہے، کتنے ماہ ہو گئے؟کس قانون کے تحت نام اب تک برقرار رکھا گیا؟ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آ رہے ہیں ، ہم کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں۔
مزید :