سعودی عرب اور امارات کی جانب سے عراق کے سنی بلاک کے اتحاد کے لیے بننے والی "قومی سیاسی کونسل" سے عدم توجہی
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں ترکی کے سفیر انیل بورا اینان نے الحلبوسی، خنجر اور سامرائی کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں کیں تاکہ اختلافات ختم کیے جائیں اور رابطے بحال ہوں۔ اسلام ٹائمز۔ عالمِ عرب کے مرکزی دھارے کے میڈیا نے انتخابات کے بعد عراق کے سنی سیاسی بلاک میں اتحاد پیدا کرنے کے مقصد سے تشکیل دی گئی "قومی سیاسی کونسل" کا گرمجوشی سے استقبال نہیں کیا۔ اس کی اہم وجہ اس کونسل کی تشکیل میں ترکی کے کردار کو سمجھا جا رہا ہے۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے بین الاقوامی شعبے کے مطابق، عراق کے پانچ بڑے سنی جماعتوں اور دھڑوں نے پارلیمانی انتخابات کے بعد سیاسی مذاکرات کے مرحلے میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے "قومی سیاسی کونسل" کے نام سے ایک نیا ڈھانچہ تشکیل دیا ہے۔ قومی سیاسی کونسل نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ "قومی ذمہ داری" اور موجودہ حساس حالات کے پیش نظر، سب سے زیادہ ووٹ لینے والے رہنماؤں—جن میں حزبِ تقدم، حزبِ عزم، اتحاد السيادة، اتحادِ ارادہ ملی اور حزبِ مردم کے سربراہ شامل ہیں—بغداد میں شیخ خمیس الخنجر (سربراہ اتحاد السيادة) کی دعوت پر جمع ہوئے اور ایک منسجم اتحاد کی تشکیل پر اتفاق کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کونسل کی تشکیل عراق کی سنی سیاسی برادری میں ایک نمایاں تبدیلی کی علامت ہے، جو طویل عرصے سے اختلافات کا شکار رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد سنی سیاسی فیصلوں کو متحد کرنا ہے، جس کی مثال 2021 میں بننے والا شیعہ کوآرڈینیشن فریم ورک ہے، جس نے بیرونی دباؤ کے باوجود وزیرِاعظم کے انتخابی عمل کو شیعہ بلاک کے ہاتھ سے نکلنے نہیں دیا تھا۔تاہم عرب میڈیا نے اس سنی اتحاد کا خیر مقدم نہیں کیا اور اسے بڑی توجہ بھی نہیں دی۔ اس کا سبب ترکی کے کردار کو بتایا جا رہا ہے۔ روزنامہ العرب نے الانبار کے ایک سینئر حکومتی اہلکار کے حوالے سے لکھا کہ ترکی کی بھرپور اور مسلسل ثالثی کے نتیجے میں ایک سال طویل سیاسی اختلافات ختم ہوئے اور محمد الحلبوسی (سربراہ اتحاد تقدم)، خمیس الخنجر (سابق سربراہ اتحاد السيادة) اور مثنیٰ السامرائی (سربراہ اتحاد عزم) کے درمیان دراڑیں کم ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں ترکی کے سفیر انیل بورا اینان نے الحلبوسی، خنجر اور سامرائی کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں کیں تاکہ اختلافات ختم کیے جائیں اور رابطے بحال ہوں۔ تاہم سیاسی مصلحتوں اور عراق کے داخلی امور میں ترکی کی مداخلت کے الزامات سے بچنے کی غرض سے ترک سفیر باضابطہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ انتخابات سے پہلے بھی ترکی نے عراق کی اہم سنی جماعتوں کو قریب لانے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا، اور اتحاد "صغورنا" کی تشکیل کو بھی اسی سلسلے کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے باوجود سنی اداکاروں میں سب سے بہتر کارکردگی اتحاد تقدم کی رہی، جس کے سربراہ محمد الحلبوسی نے 75 سنی نشستوں میں سے 27 حاصل کیں۔ مثنیٰ السامرائی کا اتحاد عزم 15 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا جبکہ خمیس الخنجر کا اتحاد السيادة صرف 9 نشستیں لے سکا، حالانکہ اسے سنی کیمپ کی سب سے مضبوط قوت سمجھا جاتا تھا۔ سعودی اور اماراتی میڈیا نے نہ صرف اس نئی سنی کونسل کا خیر مقدم نہیں کیا بلکہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ اس کونسل نے کچھ اختلافات دور کیے ہیں، مگر اختلافات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ خاص طور پر اس لیے کہ کونسل میں شامل رہنماؤں نے الحلبوسی کو مرکزی قیادت دینے سے انکار کیا۔ الشرق الاوسط نے اپنی رپورٹ میں لکھا: "سنی کیمپ کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے ترکی اور اردن سے لے کر خلیجی ممالک تک متعدد فریقوں کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے۔" اماراتی روزنامہ العرب نے اپنی تحلیل میں کہا کہ: "سنی صفوں میں ترکی کی مداخلت انقرہ کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ انبار، نینویٰ اور بغداد کی کلیدی قوتوں پر مشتمل اس اتحاد کے ذریعے عراق میں اپنا سیاسی و اقتصادی اثر و رسوخ بڑھائے اور جنوبی سرحد پر اپنے سلامتی مفادات کو محفوظ بنائے۔" عرب میڈیا کے نقطۂ نظر کے مطابق، ترکی کے زیرِاثر متحد سنی بلاک، بغداد کے ساتھ انقرہ کے مذاکرات میں ترکی کو زیادہ طاقتور بنائے گا، خصوصاً اہم مسائل جیسے پانی کے انتظام، تجارتی راستوں کی سکیورٹی، سرمایہ کاری اور ترکمان اقلیت کے تحفظ، اس سنی اتحاد کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ قومی سیاسی کونسل اس دور میں کوشش کرے گی کہ عراق کے صدر کے منصب کو کرد بلاک سے لے کر سنیوں کے حوالے کیا جائے۔ تاہم امکان ہے کہ سیاسی مذاکرات کے بعد اختلافات دوبارہ شدت اختیار کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: قومی سیاسی کونسل اتحاد السیادة سربراہ اتحاد میں ترکی کی تشکیل کے مطابق کے ساتھ عراق کے ترکی کے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔