رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں ترکی کے سفیر انیل بورا اینان نے الحلبوسی، خنجر اور سامرائی کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں کیں تاکہ اختلافات ختم کیے جائیں اور رابطے بحال ہوں۔ اسلام ٹائمز۔ عالمِ عرب کے مرکزی دھارے کے میڈیا نے انتخابات کے بعد عراق کے سنی سیاسی بلاک میں اتحاد پیدا کرنے کے مقصد سے تشکیل دی گئی "قومی سیاسی کونسل" کا گرمجوشی سے استقبال نہیں کیا۔ اس کی اہم وجہ اس کونسل کی تشکیل میں ترکی کے کردار کو سمجھا جا رہا ہے۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے بین الاقوامی شعبے کے مطابق، عراق کے پانچ بڑے سنی جماعتوں اور دھڑوں نے پارلیمانی انتخابات کے بعد سیاسی مذاکرات کے مرحلے میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے "قومی سیاسی کونسل" کے نام سے ایک نیا ڈھانچہ تشکیل دیا ہے۔ قومی سیاسی کونسل نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ "قومی ذمہ داری" اور موجودہ حساس حالات کے پیش نظر، سب سے زیادہ ووٹ لینے والے رہنماؤں—جن میں حزبِ تقدم، حزبِ عزم، اتحاد السيادة، اتحادِ ارادہ ملی اور حزبِ مردم کے سربراہ شامل ہیں—بغداد میں شیخ خمیس الخنجر (سربراہ اتحاد السيادة) کی دعوت پر جمع ہوئے اور ایک منسجم اتحاد کی تشکیل پر اتفاق کیا۔   تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کونسل کی تشکیل عراق کی سنی سیاسی برادری میں ایک نمایاں تبدیلی کی علامت ہے، جو طویل عرصے سے اختلافات کا شکار رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد سنی سیاسی فیصلوں کو متحد کرنا ہے، جس کی مثال 2021 میں بننے والا شیعہ کوآرڈینیشن فریم ورک ہے، جس نے بیرونی دباؤ کے باوجود وزیرِاعظم کے انتخابی عمل کو شیعہ بلاک کے ہاتھ سے نکلنے نہیں دیا تھا۔تاہم عرب میڈیا نے اس سنی اتحاد کا خیر مقدم نہیں کیا اور اسے بڑی توجہ بھی نہیں دی۔ اس کا سبب ترکی کے کردار کو بتایا جا رہا ہے۔ روزنامہ العرب نے الانبار کے ایک سینئر حکومتی اہلکار کے حوالے سے لکھا کہ ترکی کی بھرپور اور مسلسل ثالثی کے نتیجے میں ایک سال طویل سیاسی اختلافات ختم ہوئے اور محمد الحلبوسی (سربراہ اتحاد تقدم)، خمیس الخنجر (سابق سربراہ اتحاد السيادة) اور مثنیٰ السامرائی (سربراہ اتحاد عزم) کے درمیان دراڑیں کم ہوئیں۔   رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں ترکی کے سفیر انیل بورا اینان نے الحلبوسی، خنجر اور سامرائی کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں کیں تاکہ اختلافات ختم کیے جائیں اور رابطے بحال ہوں۔ تاہم سیاسی مصلحتوں اور عراق کے داخلی امور میں ترکی کی مداخلت کے الزامات سے بچنے کی غرض سے ترک سفیر باضابطہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ انتخابات سے پہلے بھی ترکی نے عراق کی اہم سنی جماعتوں کو قریب لانے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا، اور اتحاد "صغورنا" کی تشکیل کو بھی اسی سلسلے کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔   اس کے باوجود سنی اداکاروں میں سب سے بہتر کارکردگی اتحاد تقدم کی رہی، جس کے سربراہ محمد الحلبوسی نے 75 سنی نشستوں میں سے 27 حاصل کیں۔ مثنیٰ السامرائی کا اتحاد عزم 15 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا جبکہ خمیس الخنجر کا اتحاد السيادة صرف 9 نشستیں لے سکا، حالانکہ اسے سنی کیمپ کی سب سے مضبوط قوت سمجھا جاتا تھا۔ سعودی اور اماراتی میڈیا نے نہ صرف اس نئی سنی کونسل کا خیر مقدم نہیں کیا بلکہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ اس کونسل نے کچھ اختلافات دور کیے ہیں، مگر اختلافات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ خاص طور پر اس لیے کہ کونسل میں شامل رہنماؤں نے الحلبوسی کو مرکزی قیادت دینے سے انکار کیا۔   الشرق الاوسط نے اپنی رپورٹ میں لکھا: "سنی کیمپ کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے ترکی اور اردن سے لے کر خلیجی ممالک تک متعدد فریقوں کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے۔" اماراتی روزنامہ العرب نے اپنی تحلیل میں کہا کہ: "سنی صفوں میں ترکی کی مداخلت انقرہ کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ انبار، نینویٰ اور بغداد کی کلیدی قوتوں پر مشتمل اس اتحاد کے ذریعے عراق میں اپنا سیاسی و اقتصادی اثر و رسوخ بڑھائے اور جنوبی سرحد پر اپنے سلامتی مفادات کو محفوظ بنائے۔"   عرب میڈیا کے نقطۂ نظر کے مطابق، ترکی کے زیرِاثر متحد سنی بلاک، بغداد کے ساتھ انقرہ کے مذاکرات میں ترکی کو زیادہ طاقتور بنائے گا، خصوصاً اہم مسائل جیسے پانی کے انتظام، تجارتی راستوں کی سکیورٹی، سرمایہ کاری اور ترکمان اقلیت کے تحفظ، اس سنی اتحاد کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ قومی سیاسی کونسل اس دور میں کوشش کرے گی کہ عراق کے صدر کے منصب کو کرد بلاک سے لے کر سنیوں کے حوالے کیا جائے۔ تاہم امکان ہے کہ سیاسی مذاکرات کے بعد اختلافات دوبارہ شدت اختیار کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: قومی سیاسی کونسل اتحاد السیادة سربراہ اتحاد میں ترکی کی تشکیل کے مطابق کے ساتھ عراق کے ترکی کے

پڑھیں:

خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری

اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی