یو اے ای پاکستانیوں کو ویزے نہیں دے رہا‘ حکام وزارت داخلہ کی سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251128-08-23
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) حکام وزارت داخلہ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بریفنگ میں بتایا ہے کہ یو اے ای پاکستانیوں کو ویزے نہیں دے رہا، صرف بلیو پاسپورٹ اور ڈپلومیٹک پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزے مل رہے ہیں۔ سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ میں حکام نے بتایا کہ پاکستانی پاسپورٹ پر یو اے ای اور سعودی عرب میں پابندی لگتے لگتے بچی ہے،دونوں ملک پاکستانی پاسپورٹ پر پابندی عاید کرنے کے قریب تھے لیکن آخری لمحے پر رک گئے، اگر پابندی لگ گئی تو اسے ہٹوانا مشکل ہوگا۔حکام کا کہنا تھا کہ یو اے ای والے ویزا نہیں دے رہے، صرف بلیو پاسپورٹ اور ڈپلومیٹک پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزے مل رہے ہیں۔ حکام وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ پڑوسی ملک نے ہمارے سسٹم میں مداخلت کی اور پاسپورٹس بنوائے، اس میں ہماری بھی ذمے داری ہوگی کہ کرپشن ہوئی ہوگی، چند ماہ قبل سعودی عرب سے بڑے پیمانے پر پاکستانی نکالے گئے، ان میں کئی افغان شہری پاکستانی بن کر مقیم تھے۔ حکام وزارت داخلہ نے بتایا کہ 61 ممالک میں 21 ہزار 647 پاکستانی قید ہیں، ہم نے 18 سے 20 کروڑ پاکستانیوں کا ڈیٹا ڈیجیٹل طور پر جمع کرلیا ہے، تمام شہریوں کا ریکارڈ موجود ہے اور تصدیق فوراً ہو جاتی ہے، شہری کی شناخت کی تصدیق کے بعد ہی پوچھا جاتا ہے اسے کیا معاونت چاہیے۔ سیکرٹری وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ بیرون ملک گرفتار پاکستانیوں کی اکثریت معمولی نوعیت کے جرائم میں ملوث ہوتی ہے، زیادہ تر گرفتاریاں اوور اسٹے، شناختی فراڈ یا بینک فراڈ کی ہوتی ہیں، قتل، منظم جرائم یا دہشت گردی میں پاکستانی شہری نہ ہونے کے برابر ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حکام وزارت داخلہ یو اے ای
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔