ہانگ کانگ میں رہائشی عمارت میں شدید آگ، ہلاکتیں 65 تک پہنچ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گزشتہ روز ہانگ کانگ میں کثیرالمنزلہ رہائشی کمپلیکس میں بھیانک آگ لگنے سے ہلاکتوں کی تعداد 65 تک پہنچ گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ گزشتہ روز ہانگ کانگ کے شمالی علاقے میں پیش آیا، جہاں 31 منزلہ رہائشی عمارت سمیت متعدد بلند و بالا ٹاورز پر مشتمل ایک بڑے کمپلیکس میں بھڑکنے والی آگ نے کئی عمارتوں کے بلاکس کو لپیٹ میں لے کر شدید نقصان پہنچایا تھا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق 51 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ دیگر 14 افراد نے اسپتال میں دوران علاج دم توڑ دیا۔
حکام کے مطابق متاثرہ افراد کی تعداد اور زخمیوں کا تعین جاری ہے اور امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔
ہانگ کانگ فائرسروس کے حکام کا کہنا ہے کہ رہائشی کمپلیکس کے 8 میں سے 4 بلاکس میں آگ پر قابو پا لیا گیا ہے جبکہ دیگر بلاکس میں آگ بجھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ایک رہائشی بلاک اس تباہی سے محفوظ رہا اور وہاں کوئی نقصان نہیں ہوا۔
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ متاثرہ علاقے سے دور رہیں تاکہ ریسکیو ٹیمیں بغیر رکاوٹ کے امدادی کارروائیاں مکمل کر سکیں۔ یہ واقعہ ہانگ کانگ میں رہائشی سیکیورٹی اور آگ سے بچاؤ کے نظام پر سوالات اٹھا رہا ہے اور تحقیقات میں یہ بھی شامل ہے کہ آگ کیسے لگی اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیا انتظامات کیے گئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہانگ کانگ
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔