ہانگ کانگ کے رہائشی کمپلیکس میں خوفناک آگ، 13 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ہانگ کانگ کے شمالی علاقے میں واقع ایک کثیرالمنزلہ رہائشی کمپلیکس میں خوفناک آگ بھڑک اٹھنے سے کم از کم 13 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آتشزدگی ایک بڑے رہائشی کمپلیکس میں لگی، جسے فائر ڈیپارٹمنٹ نے چوتھے درجے کی آگ قرار دیا، یہ ہانگ کانگ میں شدید ترین سطح کی آگوں میں شمار ہوتی ہے، جنہیں بجھانے کے لیے وسیع وسائل اور طویل وقت درکار ہوتا ہے، آگ پر قابو پانے کی کوششیں کئی گھنٹوں سے جاری ہیں، جبکہ فائر بریگیڈ کے کچھ اہلکار بھی کارروائی کے دوران زخمی ہوئے۔
پولیس نے بتایا کہ متعدد افراد اب بھی عمارت کے اندر پھنسے ہوئے ہیں اور انہیں نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تقریباً 700 سے زائد افراد کو قریبی عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ محفوظ رہائش فراہم کی جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق متاثرہ کمپلیکس 8 بلاکس پر مشتمل ہے، ہر بلاک 31 منزلوں پر محیط ہے، اور یہاں مجموعی طور پر 2 ہزار سے زائد اپارٹمنٹس ہیں جہاں تقریباً 5 ہزار کے قریب افراد رہائش پذیر ہیں۔
آگ کے باعث بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور بے گھر ہونے والے خاندانوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔