ہانگ کانگ کے رہائشی کمپلیکس میں قیامت خیز آگ سے ہلاکتیں 55 تک پہنچ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
ہانگ کانگ: شہر کے شمالی علاقے میں واقع ایک کثیر المنزلہ رہائشی کمپلیکس میں لگنے والی خوفناک آگ سے ہلاکتوں کی تعداد 55 تک پہنچ گئی ہے۔
حکام کے مطابق گزشتہ رات لگنے والی آگ نے چند ہی منٹوں میں عمارت کے متعدد بلاکس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں جانی نقصان ہوا۔
خبر ایجنسی کے مطابق 55 افراد میں سے 51 لوگ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جبکہ 4 افراد نے اسپتال میں دورانِ علاج دم توڑا۔
ہانگ کانگ فائر سروس کا کہنا ہے کہ کمپلیکس کے 8 میں سے 4 بلاکس میں آگ بجھا دی گئی ہے، جبکہ باقی بلاکس میں آگ پر قابو پانے کی کارروائیاں جاری ہیں۔ ایک بلاک آگ سے محفوظ رہا ہے۔
ریسکیو ٹیموں نے عمارت میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے پوری رات آپریشن جاری رکھا، جبکہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔