وفاقی آئینی عدالت نے صحافی ارشد شریف قتل کیس مقرر کردیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
وفاقی آئینی عدالت نے صحافی ارشد شریف قتل کیس مقرر کردیا WhatsAppFacebookTwitter 0 28 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز) وفاقی آئینی عدالت نے صحافی ارشد شریف قتل کیس سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔
کیس کی سماعت 3 دسمبر کو ہوگی، جس کے لیے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان پر مشتمل دو رکنی بینچ تشکیل دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر از خود نوٹس لیا تھا، تاہم 27ویں آئینی ترمیم کے بعد اس نوعیت کے تمام از خود نوٹس کیسز کی سماعت کا اختیار آئینی عدالت کو منتقل ہو چکا ہے۔
اسی قانونی تبدیلی کے تحت یہ مقدمہ بھی اب وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں آ گیا ہے۔
واضح رہے کہ 23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں مگاڈی ہائی وے پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر قتل کیا تھا ۔
بعد ازاں کینیا کی پولیس کی جانب سے واقعہ غلط شناخت کا قرار دیا گیا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خان کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خان کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط ملک میں حالیہ ہفتے 14 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی کی سالانہ شرح 4.32 فیصد تک پہنچ گئی امریکا میں فائرنگ، تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے، ترجمان دفتر خارجہ پاکستانیوں کو امارات کے ویزے نہ ملنے سے متعلق حکومت کی وضاحت سامنے آگئی جدہ: اوورسیز پاکستانیز کمیشن کے وائس چیئرمین اور قونصل جنرل کی صحافیوں سے ملاقات نومبر میں نیلا آسمان نظر آنا کامیاب پالیسیوں کا ثبوت ہے: مریم اورنگزیب
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وفاقی آئینی عدالت ارشد شریف قتل کیس
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔