امارات میں پاکستانیوں کے لیے روزانہ 500 ویزے پراسیس کیے جا رہے ہیں، سفیر کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: اماراتی سفیر نے تصدیق کی ہے کہ پاکستانیوں کے لیے روزانہ پانچ سو ویزے پراسس کیے جا رہے ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور متحدہ عرب امارات کے نئے سفیر کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دونوں ممالک نے معاشی شراکت داری کے نئے دور کی جانب بڑھنے کا واضح عندیہ دیا ہے۔
اہم ملاقات میں نہ صرف تجارتی و مالیاتی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے گفتگو کی گئی بلکہ سفیر کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستانی شہریوں کے لیے یو اے ای ویزا پراسیسنگ اب پہلے سے کہیں تیز ہوچکی ہے اور روزانہ تقریباً 500 ویزے مکمل کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ای ویزا، آن لائن پراسسنگ اور پاسپورٹ اسٹیمپنگ کے خاتمے جیسے اقدامات پر بھی پیش رفت جاری ہے، جو مستقبل میں پاکستانیوں کے سفر کو مزید سہل بنانے کا سبب بنے گی۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق اس اہم ملاقات کا مقصد دونوں ممالک کی اسٹریٹجک معاشی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا تھا۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان گزشتہ برسوں میں تجارت، سرمایہ کاری اور مالیاتی تعاون میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اس نے دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے لیے بااعتماد شراکت دار کے طور پر آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
وزیر خزانہ نے گفتگو کے دوران کہا کہ پاکستان اس وقت تجارتی توسیع اور طویل المدتی سرمایہ کاری کی طرف بڑھ رہا ہے اور ایسے وقت میں یو اے ای کی جانب سے پورٹس، ڈیجیٹل بینکنگ اور لاجسٹکس سیکٹر میں سرمایہ کاری نہایت حوصلہ افزا ہے۔
یو اے ای کے سفیر نے پاکستانی پروفیشنلز کی خدمات کو سراہتے ہوئے اعتراف کیا کہ مختلف شعبوں میں پاکستانی افرادی قوت نے ہمیشہ اعلیٰ کارکردگی دکھائی ہے اور ملک کی معاشی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ورکرز کی مہارت، محنت اور پیشہ ورانہ وقار نے انہیں یو اے ای کی تعمیر و ترقی کا مضبوط حصہ بنایا ہے۔
ملاقات میں زراعت، کان کنی، مالیاتی خدمات اور ورچوئل ایسٹس جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی تجاویز بھی زیر بحث آئیں۔ دونوں ممالک نے ان شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری اور پارٹنرشپ کی اہمیت پر زور دیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ مستقبل میں ان سیکٹرز میں عملی پیش رفت کے لیے طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کے لیے سفری سہولیات کو بہتر بنانا نہایت ضروری ہے، کیوں کہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ میں آسان سفری نظام بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
ملاقات کے دوران سفیر کی جانب سے ویزا پراسیسنگ کے حوالے سے دی گئی تفصیلات بھی نہایت اہم تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا سسٹم کو جدید اور تیز تر بنانے کے لیے یو اے ای مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔ ای ویزا اور آن لائن پراسسنگ کے نظام سے پاکستانیوں کو درپیش کئی مشکلات کم ہو رہی ہیں جب کہ پاسپورٹ اسٹیمپنگ کے خاتمے سے مستقبل میں سفری عمل مزید فاسٹ ٹریک ہوجائے گا۔
فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تجارت، سرمایہ کاری، فنانس، ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کے شعبے وہ میدان ہیں جن میں باہمی تعاون سے نہ صرف اقتصادی ترقی کو رفتار دی جا سکتی ہے بلکہ خطے میں معاشی استحکام کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری کہ پاکستانی یو اے ای کی جانب کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں