آئی ایم ایف رپورٹ یا چوروں کی چارج شیٹ
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
(2)
سوال یہ ہے کہ عوام کے نام پر، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے تشکیل دی جانے والی جمہوریت دنیا بھر میں سرمایہ داروں کی منہ لگائی ڈومنی کیوں ہے؟ یہ سرمایہ داروں کے کوٹھے پر ہی کیوں ناچتی ہے؟ اس کا ریموٹ غریب عوام کی اکثریت کے بجائے سرمایہ داروں کی اقلیت کے ہاتھ میں کیوں ہے؟
اس نظام میں کرپشن by Design ہوتی ہے۔ قوانین اس طرح بنائے جاتے ہیں کہ لوٹ مار قانونی دکھائی دے، احتساب کا شور تو بہت ہو لیکن کسی بڑے کا احتساب نہ ہوسکے۔ جمہوریت کا پورا معاشی، قانونی اور سیاسی نظام ایسے ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ بڑے صنعت کار، سیاسی خاندان، طاقتور گروپ، سرکاری ایلیٹ، بین الاقوامی کمپنیاں، آئی پی پی اور کارٹیلز کے مالکان، ایک چھوٹی سی اقلیت فائدہ اٹھائے اور انتظامی مشینری ان کی کرپشن کو تحفظ دے، ان کی حفاظت کرے اور انہیں چلائے۔ جیسے نیپرا، اوگرا، ایف بی آر، SECP، عدالتوں کا مخصوص بندوبست، میڈیا کا مخصوص طبقہ، مشیر، کنسلٹنٹس، پالیسی ڈیزائنر، عالمی اداروں کے نمائندے، ٹیکنو کریٹس اور افسران کا وہ نیٹ ورک جو فائلوں اور قواعد کو ایڈ جسٹ کرتا ہے۔ ایک چھوٹی اقلیت پیسہ بناتی ہے، پوری مشینری اسے قانونی بناتی اور تحفظ دیتی ہے اور عوام پر اس کا بل ڈال دیا جاتا ہے۔
کرپشن محض ممالک کے اندروں ہی پرورش نہیں پاتی بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے کھل کھیلنے کا پورا بندوبست کیا گیا ہے۔ پاناما، کیمون جزائر اور برمودا ممالک اس نظام میں کرپشن کے وہ عالمی ماڈل ہیں جو دنیا بھر کے سرمایہ داروں کو قانونی راستہ دیتے ہیں کہ سرمایہ لائو، ٹیکس چوری کرو اور پھر بھی قانون کی گرفت سے محفوظ رہو۔ سرمایہ دار ’’قانونی طریقے‘‘ سے اپنی دولت آف شور منتقل کرتے ہیں اور ٹیکس چوری کرنے یا کم ٹیکس ادا کرنے کے لیے شیلف کمپنیوں اور آف شور ڈھانچوں کا استعمال کرتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام، دولت کی طاقت اور قانونی رازداری مل کر ایک گلوبل نظام تشکیل دیتی ہے جو صرف چند افراد کو فائدہ پہنچاتا ہے جب کہ ترقی پذیر ممالک کو ٹیکس ریو نیو کی مد میں بڑا نقصان پہنچتا ہے۔ اس نظام میں کرپشن صرف اندھی رشوت نہیں بلکہ عالمی ڈھانچا ہے جو طاقتور طبقوں کے مفاد میں بنا یا گیا ہے۔
اس نظام میں اکثریت اور پارلیمنٹ کی حیثیت بجا لیکن جب سرمایہ داروں کو ٹیکس میں چھوٹ دینی ہو یا اضافہ کرنا ہو، امپورٹ ایکسپورٹ پر ڈیوٹی کم وبیش کرنا ہو، ریگو لیٹری فیس عائد کرنا ہو، کسی شعبے کو خصوصی رعایت دینی ہو یا قوانین میں ترمیم یا ان کا نفاذ کرناہو، مخصوص صنعتوں کو فائدہ پہنچانا ہو تب یہ نظام ایک ایسا شارٹ کٹ تراشتا ہے جس میں اسمبلی کو گھاس کی پتی کے برابر وقعت دیے بغیر محکمانہ نوٹی فیکیشن اور حکم نامہ ایس آر اوز کا کھیل کھیلا جاتا ہے اور بہت بڑے مالی فیصلے نافذ کردیے جاتے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں ٹیکس کا نظام قانون سے نہیں ایس آر اوز سے چلتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ جمہوری نظام میں کرپشن کیوں پنپتی ہے؟ کیوں کرپشن میں اضافہ ہوتا ہے؟ بات یہ ہے کہ سیاست ایک مہنگا کھیل ہے۔ سرمایہ دار سیاست دانوں کو سپورٹ نہ کریں، انہیں فنڈز نہ دیں تو سیاست کا کاروبار چلنا ممکن نہیں۔ اس کے عوض سیاست دان اقتدار میں آکر سرمایہ داروں کو سپورٹ کرتے ہیں ان کے حق میں قانون سازی کرتے ہیں لہٰذا قانون وہی بنتا ہے جو سرمایہ داروں کے فائدے میں ہو۔ خبر وہی بنتی ہے جو سرمایہ دار میڈیا مالکان چاہتے ہیں۔ ٹیرف، ٹریڈ بجٹ سب سرمایہ داروں کی سمت جھکا ہوتا ہے۔ رشوت ڈونیشن بن جاتی ہے۔ کمیشن لابنگ کہلاتی ہے۔ اپنی ایک اشاعت میں نیویارک ٹائمز نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت کے بارے میں لکھا تھا: India,s democracy is captured by billionaires اس کی عملی شکل یہ ہے کہ کانگریس سے بی جے پی تک دونوں کے بڑے عطیہ دہندگان ایک ہی ہیں۔ امبانی اور اڈانی گروپ حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔
سرمایہ دارانہ نظام میں کرپشن کا خاتمہ نہیں کیا جاتا۔ ختم کرنے کے بجائے اسے قانونی شکل دے دی جاتی ہے۔ پاکستان میں جسے کرپشن شمار کیا جاتا ہے، چوری چھپے کیا جاتا ہے امریکا اور یورپ میں وہی کام قانون بناکر کیا جاتا ہے۔ نوم چومسکی اسے ’’قانونی رشوت legalized bribery‘‘ کہتے ہیں۔ جس کی شکل یوں ہوتی ہے کہ امریکا میں بڑی بڑی کارپوریشنز سینیٹرز اور کانگریس مینز کو اربوں ڈالر کا لابنگ فنڈز دیتی ہیں۔ اسلحہ ساز کمپنیاں اس قانونی رشوت کے ذریعے اپنے حق میں قوانین بنواتی ہیں، دواساز کمپنیاں ادویات کی نئی اضافہ شدہ قیمتیں طے کرواتی ہیں، بینکنگ سیکٹر نے اس قانونی رشوت کے ذریعے 2008 کے قوانین کمزور کروائے ہیں۔ تیل کمپنیوں نے ماحولیاتی قوانین کو پاس ہونے سے روک رکھا ہے۔ یہ سب قانونی ہے لیکن اصل میں سرمایہ کی طاقت سے قانون خریدنے کا عمل ہے۔
کرپشن کی ایک دوسری قسم وہ ہے جس میں سرکاری اور نجی کارپوریشنوں کے عہدے دار باری باری ایک دوسرے کے اداروں میں جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ آج کوئی سرکاری افسر کسی وزارت، ریگو لیٹری اتھارٹی یا کمیشن میں اہم پالیسی بناتا ہے کل وہی شخص اس صنعت کی نجی کمپنی میں ملازم بن جاتا ہے جہاں اسے بھاری تنخواہیں، بونس اور مراعات دی جاتی ہیں۔ کسی کمپنی کا بڑا افسر حکومت میں پالیسی ساز کے طور پر آتا ہے۔ اپنی کمپنی کے فائدے میں پالیسی بنواتا ہے پھر دوبارہ اپنی کارپوریشن میں جا کر اس پالیسی سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ یوں اس نظام میں پالیسی سازی غیر جانبدار نہیں رہتی۔
پاکستان میں اس کی صورت یہ ہے کہ نیپرا، اوگرا اسٹیٹ بینک کے وزرائے خزانہ، بڑی کارپوریٹ کمپنیوں میں شامل بیوروکریٹس، ٹیکس پالیسی ڈیزائن کرنے والے بعد میں ملٹی نیشنل کمپنیوں میں ملازم ہوکر دولت اور فوائد سمیٹتے ہیں۔ یہ Revolving Door Corruption کی کلاسک مثالیں ہیں۔ ملک ریاض اور بحریہ ٹائون کا پورا کاروباری ماڈل کئی دہائیوں تک اسی طریقے پر کھڑا رہا۔ اسے یوں بیان کیا جاتا تھا ’’جو آج جج، جرنیل یا بیورو کریٹ، سیاست دان یا بااثر مشیر ہے کل ملک ریاض کا مشیر افسر یا ملازم ہوگا اور پھر اپنی پرانی جائے ملازمت پر بحریہ ٹائون کے کام نکلوا رہا ہوگا‘‘ اسے Influence Pedding یا اثرو رسوخ کی خریدو فروخت بھی کہا جاتا ہے جب اپناذاتی اثر، رسائی اور تعلقات استعمال کرکے کسی کوٹھیکا دلوادیا جائے، کوئی فائل منظور کروالی جائے، NOC بنوالیا جائے، کیس ختم کروا دیا جائے، زمین الاٹ کروالی جائے۔
پاکستان میں صورتحال یہ رنگ اختیارکرتی جارہی ہے کہ حکومت کرپشن کو قانونی شکل دے یا نہ دے لوگوں نے اسے خود ہی جائز باور کرلیا ہے۔ ایک باشرع رشوت خور سے جب یہ کہا گیا کہ ڈاڑھی رکھ کر رشوت لیتے ہو تو پیٹ پر ہاتھ مارتے ہوئے اس کا جواب تھا ’’اس رقم کا تعلق ڈاڑھی کے بالوں سے نہیں پیٹ سے ہے‘‘۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سرمایہ داروں پاکستان میں کیا جاتا ہے سرمایہ دار کرتے ہیں یہ ہے کہ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔