کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251127-03-2
پاکستان میںایک بنیادی خرابی کرپشن اور بدعنوانی پر مبنی سیاست ہے۔ پاکستان کا حکمران طبقہ کرپشن اور بدعنوانی کو اوّل تو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے یا پھر اس کے خاتمے کے لیے ایسے مصنوعی اقدامات کرتا ہے جس سے کرپشن کا خاتمہ ممکن نہ ہو سکے۔ ہمارا طاقتور طبقہ یہ دلیل بھی دیتا ہے کہ آج کے سرمایہ دار نظام میں کرپشن اس کا لازمی حصہ بن چکا ہے اور ہمیں اس کو تسلیم کر کے آگے بڑھنا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ملک سے کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے حکومتی سطح پر جتنے بھی اقدامات اٹھائے گئے ہیں وہ موثر ثابت نہیں ہو سکے۔ جنرل مشرف کے دور میں نیب جیسا ادارہ بنایا گیا تھا جس کا مقصد کرپشن اور بدعنوانی کا خاتمہ تھا مگر اس ادارے کو حکمرانوں نے سیاسی مخالفین کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا اور انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا۔ اس لیے یہ ادارہ بھی اپنی افادیت کھو چکا ہے اور پاکستان کی سیاسی قیادت مشترکہ طور پر یہ مطالبہ کر چکی ہے کہ نیب جیسے اداروں کو ہر صورت میں بند ہونا چاہیے۔ پاکستان کا حکمران طبقہ بار بار اس بات کو دہراتا ہے کہ اس نے گورننس کے معاملات میں بہتری پیدا کی ہے اور پوری توجہ ایک شفاف نظام کی تشکیل پر ہے۔ لیکن حکومت کے اس دعوے کو کوئی بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ حال ہی میں آئی ایم ایف نے پاکستان کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں گورننس کی خرابیوں کے سلسلے میں بنیادی نوعیت کے مسائل کی نشاندہی کی ہے اور ان کے بقول پاکستان کی حکمرانی کے نظام میں سب سے بڑا مسئلہ کرپشن اور بدعنوانی ہے۔ اگر پاکستان نے کرپشن کے خاتمے میں بنیادی نوعیت کے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو معاشی ترقی کا عمل کسی بھی صورت میں آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ اس سے قبل آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے پاکستان کی بیوروکریسی پر سخت تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ یہ نظام بہت بوسیدہ اور فرسودہ ہو چکا ہے اور اس کی موجودگی میں اگر پاکستان معیشت کی ترقی کا خواب دیکھتا ہے تو یہ محض خواب ہی بن کر رہ جائے گا۔ پاکستان کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہاں ہر حکومت اصلاحات کی بات کرتی ہے مگر اصلاحات کرتے وقت وہ اداروں کو مضبوط بنانے کے بجائے افراد یا پہلے سے طاقتور افراد کو مزید مضبوط بناتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں اصلاحات کا عمل کامیابی سے آگے نہیں بڑھ سکا اور اگر کہیں ہم نے داخلی اور خارجی مجبوریوں کی وجہ سے بہتر اصلاحات کیں بھی تو اس پر عمل درامد نہیں کیا گیا۔ ہمارا پورا حکومتی نظام کرپشن اور بدعنوانی کی بنیاد پر کھڑا ہے اور ہم نے اسے ایک بڑی مصلحت اور ضرورت کے تحت قبول کر لیا ہے۔ جب بھی کرپشن اور بدعنوانی کی بات کی جاتی ہے تو سیاسی جماعتیں اور حکومتیں سمجھتی ہیں کہ ہمیں بدنام کیا جا رہا ہے اور اس کا مقصد سیاست اور جمہوریت کو کمزور کرنا ہے۔ حالانکہ دنیا بھر میں جمہوریت کی بنیادی کنجی شفافیت سے جڑی ہوئی ہے اور اگر نظام ہی شفاف نہ ہو تو پھر جمہوریت کا بھی کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔ لیکن ہمارے حکمران طبقات جمہوریت کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں اسی طرح شفافیت کے نظام کو بھی اپنے حق میں استعمال کرنا ہمارے سیاست دانوں کی مجبوری بن گیا ہے۔ اگرچہ ہم نے ادارے تو بہت بنا لیے ہیں لیکن اداروں کو خود مختار کرنا اور ان میں شفافیت لانا ہماری ترجیحات کا حصہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب عالمی ادارے مختلف شعبوں میں پاکستان کی درجہ بندی کرتے ہیں تو ہم بہت پیچھے کھڑے نظر آتے ہیں۔ پاکستان میں کرپشن اور بدعنوانی کے الزام میں کئی بڑے سیاست دانوں پر مقدمات بنائے گئے یا ان کو جیلوں میں ڈالا گیا لیکن اس کا مقصد احتساب کرنا نہیں تھا بلکہ اس کی بنیاد بنا پر ان سے سیاسی ڈیل کرنا یا اپنے آپ کو تحفظ دینا تھا۔ مسئلہ محض سیاستدانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اوپر سے لے کر نیچے تک سارا نظام ہی کرپشن کی نظر ہو گیا ہے اور ہر کوئی کرپشن کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ اسی طرح یہ مسئلہ محض اوپر تک محدود نہیں رہا بلکہ نچلی سطح تک بھی لوگ کرپشن کو قبول کر چکے ہیں اور اسے کوئی جرم تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ پاکستان میں جو جتنا بڑا کرپٹ ہے اسے اتنا ہی تحفظ دیا جاتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب لوگ کرپٹ لوگوں سے خود کو دور رکھتے تھے لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے اور کرپشن اور بدعنوانی کو عملی طور پر سماجی تحفظ حاصل ہو گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب عالمی مالیاتی ادارے پاکستان میں کرپشن اور بدعنوانی کو اُجاگر کرتے ہیں تو وہ ان کا احتساب کیوں نہیں کرتے۔ ہمیں دنیا سے جو امداد ملتی ہے آج تک اس کا کوئی حساب قوم کے سامنے پیش نہیں کیا گیا کہ حقیقت یہ ہے کہ بڑی طاقتیں یا طاقتور ممالک بھی کرپشن کو ہمارے جیسے ملکوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں اور اس کی بنیاد پر اپنا ایجنڈا آگے بڑھاتے ہیں۔ ہم نے تو سیاست اور سیاسی نظام میں کرپشن کو رائج کیا ہے اور پورا سیاسی نظام کارپوریٹ نظام کی بنیاد پر آگے بڑھ رہا ہے۔ یعنی جو بھی فرد انفرادی سطح پر سیاست میں پیسہ لگاتا ہے اسی کو اقتدار کی سیاست میں حصہ دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاست اور جمہوریت کا یہ کھیل مجموعی طور پر روپے پیسے کا کھیل بن گیا سب سیاست کے نام پر پیسہ بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کھیل میں ایک اور بڑا کردار کمزور عدالتی کا نظام ہے اور اس نظام نے ہمیشہ بڑی طاقتوں کے کہنے پر کرپٹ اور بدعنوانوں کو سیاسی تحفظ دیا ہے۔ ہمارا عدالتی نظام کرپشن اور بدعنوانی کو روکنے میں ناکام رہا ہے اور اب 26 ویں اور 27 ویں ترمیم کے بعد حکومتوں نے عدلیہ کو ایک ایسی نہج پہ پہنچا دیا ہے جہاں عدالتی احتساب عملاً ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ جس ملک میں عدالتی نظام خود مختار اور شفاف نہیں ہوگا وہاں کسی کا بھی احتساب ممکن نہیں ہو سکے گا۔ اگر یہ عالمی مالیاتی ادارے کرپشن اور بدعنوانی کو ختم کرنا چاہتے ہیں یا حکمرانوں کو جواب دہ بنانا چاہتے ہیں تو ان کو ہمارے جیسے ملکوں میں حکمرانوں کے بارے میں دوہرے معیارات کو چھوڑنا ہوگا۔ کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست کا خاتمہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ہم تضادات کی سیاست سے باہر نکلیں گے اور بلا تفریق احتساب کا نظام قائم کریں گے۔ محض طاقتور کو احتساب سے دور رکھنا اور کمزور کو احتساب کے نظام میں جکڑنا شفافیت کی عکاسی نہیں کرتا۔ پاکستان کے بیش تر بڑے بڑے کاروباری حضرات فوجی سربراہوں سے ملاقات میں برملا یہ کہتے ہیں کہ انہیں اس ملک میں ایف بی آر کا نظام قبول نہیں ہے کیونکہ اس نظام کی موجودگی میں کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ ان کے بقول اگر ایف بی آر کا موجودہ نظام برقرار رہا تو نہ صرف کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا بلکہ اس ملک میں کاروبار کرنا بھی ایک عذاب بن جائے گا۔ ہمارے حکمراں طبقات ہمیشہ سے ایف بی آر میں اصلاحات کی بات کرتے ہیں مگر عملاً کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جس سے یہ ادارہ ایک بے لگام ادارے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ جب ملک میں حکمرانی کا نظام خود شفافیت کے اصول پر پورا نہیں اُترتا اور ہمارے حکمران طبقات خود کرپشن کی سیاست کرتے ہیں تو پھر باقی اداروں کی کرپشن کیسے ختم ہوگی۔ دنیا بھر میں گورننس کے نظام میں شفافیت پیدا کرنے کے لیے اصلاحات پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے مگر ہم ان اصلاحات کے نام پر مصنوعی انداز میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ ہم شفاف نظام کے حامی ہیں۔ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ہم خود بھی شفافیت کے نظام پر یقین نہیں رکھتے اور ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جو ہماری ذاتی ترقی اور خوشحالی کا سبب بن سکے۔ کرپشن کا خاتمہ ایک منظم سیاسی تحریک اور سیاسی جدوجہد کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کرپشن اور بدعنوانی کو کرپشن اور بدعنوانی کی کرنے کے لیے تیار نہیں کرپشن کا خاتمہ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں پاکستان کی ممکن نہیں چاہتے ہیں کی سیاست کرپشن کو کرتے ہیں کی بنیاد تسلیم کر یہ ہے کہ کا نظام ملک میں نہیں ہے کے نظام نہیں ہو گیا ہے ہیں تو چکا ہے ہے اور اور اس رہا ہے
پڑھیں:
ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
پاکستان کرکٹ ٹیم کے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے آسٹریلیا کے خلاف جاری ون ڈے سیریز میں استعمال ہونے والی اسپن فرینڈلی وکٹوں پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنہ 2027 ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے ٹیم کی حکمت عملی جامع تحقیق اور مختلف حالات کے جائزے پر مبنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ون ڈے ٹیم کی تشکیل پر مسلسل کام جاری، ورلڈ کپ کو ہدف بنایا لیا، مائیک ہیسن
پاکستان نے 3 میچوں کی سیریز کے پہلے ون ڈے میں کم اسکور والے سنسنی خیز مقابلے کے بعد 0-1 کی برتری حاصل کر رکھی ہے تاہم بعض کرکٹ مبصرین نے سوال اٹھایا تھا کہ آیا سست اور اسپن بولنگ کے لیے سازگار وکٹیں ٹیم کو 2027 کے ورلڈ کپ کے لیے مؤثر تیاری فراہم کر سکیں گی یا نہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں مائیک ہیسن نے کہا کہ یہ تصور درست نہیں کہ جنوبی افریقا کی تمام وکٹیں تیز اور باؤنس والی ہوتی ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ میں یہ باتیں سن رہا ہوں کہ پاکستان میں موجودہ وکٹیں جنوبی افریقہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے موزوں نہیں ہیں لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔
I've been hearing a bit of chatter about the pitches here in Pakistan not being the ideal preparation for the World Cup in South Africa. It’s actually a topic I talked about on the latest #PCB podcast.
Firstly the World Cup is jointly hosted in South Africa, Zimbabwe and…
— Mike Hesson (@CoachHesson) June 1, 2026
ہیسن نے یاد دلایا کہ سنہ 2027 کا آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ صرف جنوبی افریقا میں نہیں بلکہ زمبابوے اور نمیبیا میں بھی کھیلا جائے گا جہاں متعدد میدانوں پر اسپنرز کو نمایاں مدد ملتی ہے۔
مزید پڑھیے: ورلڈ کپ سے قبل پاور پلے اور مڈل اوورز میں بہتری ضروری ہے، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن
انہوں نے کہا کہ زمبابوے اور نمیبیا میں ایسے کئی وینیوز موجود ہیں جہاں اسپن ایک اہم عنصر ہوتا ہے اور پاکستان کو وہاں بھی میچز کھیلنے ہیں۔
پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے سال 2024 میں جنوبی افریقا کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارل میں کھیلے گئے ون ڈے میچ میں بھی اسپن بولنگ نے اہم کردار ادا کیا تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جنوبی افریقہ کی تمام وکٹوں کو یکساں طور پر تیز اور باؤنس والی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاثر کہ جنوبی افریقا کی ہر وکٹ رفتار اور باؤنس کے لیے مشہور ہے حقیقت پر مبنی نہیں۔
مزید پڑھیں: دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے کوچ نے شائقین کو یقین دلایا کہ ٹیم مینجمنٹ نے ورلڈ کپ کے حوالے سے تفصیلی تحقیق کی ہے اور آئندہ 18 ماہ کے دوران مختلف حالات اور وکٹوں پر کھیلنے کی بھرپور تیاری کی جائے گی تاکہ پاکستان عالمی ایونٹ کے لیے ہر ممکن طور پر تیار ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان کی اسپن فرینڈلی وکٹس پاکستان کی سلو وکٹس پاکستانی پچز پاکستانی وکٹس مائیک ہیسن ورلڈ کرکٹ کپ 2027