Jasarat News:
2026-07-24@03:59:16 GMT

کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست

اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251127-03-2
پاکستان میںایک بنیادی خرابی کرپشن اور بدعنوانی پر مبنی سیاست ہے۔ پاکستان کا حکمران طبقہ کرپشن اور بدعنوانی کو اوّل تو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے یا پھر اس کے خاتمے کے لیے ایسے مصنوعی اقدامات کرتا ہے جس سے کرپشن کا خاتمہ ممکن نہ ہو سکے۔ ہمارا طاقتور طبقہ یہ دلیل بھی دیتا ہے کہ آج کے سرمایہ دار نظام میں کرپشن اس کا لازمی حصہ بن چکا ہے اور ہمیں اس کو تسلیم کر کے آگے بڑھنا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ملک سے کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے حکومتی سطح پر جتنے بھی اقدامات اٹھائے گئے ہیں وہ موثر ثابت نہیں ہو سکے۔ جنرل مشرف کے دور میں نیب جیسا ادارہ بنایا گیا تھا جس کا مقصد کرپشن اور بدعنوانی کا خاتمہ تھا مگر اس ادارے کو حکمرانوں نے سیاسی مخالفین کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا اور انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا۔ اس لیے یہ ادارہ بھی اپنی افادیت کھو چکا ہے اور پاکستان کی سیاسی قیادت مشترکہ طور پر یہ مطالبہ کر چکی ہے کہ نیب جیسے اداروں کو ہر صورت میں بند ہونا چاہیے۔ پاکستان کا حکمران طبقہ بار بار اس بات کو دہراتا ہے کہ اس نے گورننس کے معاملات میں بہتری پیدا کی ہے اور پوری توجہ ایک شفاف نظام کی تشکیل پر ہے۔ لیکن حکومت کے اس دعوے کو کوئی بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ حال ہی میں آئی ایم ایف نے پاکستان کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں گورننس کی خرابیوں کے سلسلے میں بنیادی نوعیت کے مسائل کی نشاندہی کی ہے اور ان کے بقول پاکستان کی حکمرانی کے نظام میں سب سے بڑا مسئلہ کرپشن اور بدعنوانی ہے۔ اگر پاکستان نے کرپشن کے خاتمے میں بنیادی نوعیت کے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو معاشی ترقی کا عمل کسی بھی صورت میں آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ اس سے قبل آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے پاکستان کی بیوروکریسی پر سخت تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ یہ نظام بہت بوسیدہ اور فرسودہ ہو چکا ہے اور اس کی موجودگی میں اگر پاکستان معیشت کی ترقی کا خواب دیکھتا ہے تو یہ محض خواب ہی بن کر رہ جائے گا۔ پاکستان کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہاں ہر حکومت اصلاحات کی بات کرتی ہے مگر اصلاحات کرتے وقت وہ اداروں کو مضبوط بنانے کے بجائے افراد یا پہلے سے طاقتور افراد کو مزید مضبوط بناتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں اصلاحات کا عمل کامیابی سے آگے نہیں بڑھ سکا اور اگر کہیں ہم نے داخلی اور خارجی مجبوریوں کی وجہ سے بہتر اصلاحات کیں بھی تو اس پر عمل درامد نہیں کیا گیا۔ ہمارا پورا حکومتی نظام کرپشن اور بدعنوانی کی بنیاد پر کھڑا ہے اور ہم نے اسے ایک بڑی مصلحت اور ضرورت کے تحت قبول کر لیا ہے۔ جب بھی کرپشن اور بدعنوانی کی بات کی جاتی ہے تو سیاسی جماعتیں اور حکومتیں سمجھتی ہیں کہ ہمیں بدنام کیا جا رہا ہے اور اس کا مقصد سیاست اور جمہوریت کو کمزور کرنا ہے۔ حالانکہ دنیا بھر میں جمہوریت کی بنیادی کنجی شفافیت سے جڑی ہوئی ہے اور اگر نظام ہی شفاف نہ ہو تو پھر جمہوریت کا بھی کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔ لیکن ہمارے حکمران طبقات جمہوریت کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں اسی طرح شفافیت کے نظام کو بھی اپنے حق میں استعمال کرنا ہمارے سیاست دانوں کی مجبوری بن گیا ہے۔ اگرچہ ہم نے ادارے تو بہت بنا لیے ہیں لیکن اداروں کو خود مختار کرنا اور ان میں شفافیت لانا ہماری ترجیحات کا حصہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب عالمی ادارے مختلف شعبوں میں پاکستان کی درجہ بندی کرتے ہیں تو ہم بہت پیچھے کھڑے نظر آتے ہیں۔ پاکستان میں کرپشن اور بدعنوانی کے الزام میں کئی بڑے سیاست دانوں پر مقدمات بنائے گئے یا ان کو جیلوں میں ڈالا گیا لیکن اس کا مقصد احتساب کرنا نہیں تھا بلکہ اس کی بنیاد بنا پر ان سے سیاسی ڈیل کرنا یا اپنے آپ کو تحفظ دینا تھا۔ مسئلہ محض سیاستدانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اوپر سے لے کر نیچے تک سارا نظام ہی کرپشن کی نظر ہو گیا ہے اور ہر کوئی کرپشن کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ اسی طرح یہ مسئلہ محض اوپر تک محدود نہیں رہا بلکہ نچلی سطح تک بھی لوگ کرپشن کو قبول کر چکے ہیں اور اسے کوئی جرم تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ پاکستان میں جو جتنا بڑا کرپٹ ہے اسے اتنا ہی تحفظ دیا جاتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب لوگ کرپٹ لوگوں سے خود کو دور رکھتے تھے لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے اور کرپشن اور بدعنوانی کو عملی طور پر سماجی تحفظ حاصل ہو گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب عالمی مالیاتی ادارے پاکستان میں کرپشن اور بدعنوانی کو اُجاگر کرتے ہیں تو وہ ان کا احتساب کیوں نہیں کرتے۔ ہمیں دنیا سے جو امداد ملتی ہے آج تک اس کا کوئی حساب قوم کے سامنے پیش نہیں کیا گیا کہ حقیقت یہ ہے کہ بڑی طاقتیں یا طاقتور ممالک بھی کرپشن کو ہمارے جیسے ملکوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں اور اس کی بنیاد پر اپنا ایجنڈا آگے بڑھاتے ہیں۔ ہم نے تو سیاست اور سیاسی نظام میں کرپشن کو رائج کیا ہے اور پورا سیاسی نظام کارپوریٹ نظام کی بنیاد پر آگے بڑھ رہا ہے۔ یعنی جو بھی فرد انفرادی سطح پر سیاست میں پیسہ لگاتا ہے اسی کو اقتدار کی سیاست میں حصہ دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاست اور جمہوریت کا یہ کھیل مجموعی طور پر روپے پیسے کا کھیل بن گیا سب سیاست کے نام پر پیسہ بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کھیل میں ایک اور بڑا کردار کمزور عدالتی کا نظام ہے اور اس نظام نے ہمیشہ بڑی طاقتوں کے کہنے پر کرپٹ اور بدعنوانوں کو سیاسی تحفظ دیا ہے۔ ہمارا عدالتی نظام کرپشن اور بدعنوانی کو روکنے میں ناکام رہا ہے اور اب 26 ویں اور 27 ویں ترمیم کے بعد حکومتوں نے عدلیہ کو ایک ایسی نہج پہ پہنچا دیا ہے جہاں عدالتی احتساب عملاً ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ جس ملک میں عدالتی نظام خود مختار اور شفاف نہیں ہوگا وہاں کسی کا بھی احتساب ممکن نہیں ہو سکے گا۔ اگر یہ عالمی مالیاتی ادارے کرپشن اور بدعنوانی کو ختم کرنا چاہتے ہیں یا حکمرانوں کو جواب دہ بنانا چاہتے ہیں تو ان کو ہمارے جیسے ملکوں میں حکمرانوں کے بارے میں دوہرے معیارات کو چھوڑنا ہوگا۔ کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست کا خاتمہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ہم تضادات کی سیاست سے باہر نکلیں گے اور بلا تفریق احتساب کا نظام قائم کریں گے۔ محض طاقتور کو احتساب سے دور رکھنا اور کمزور کو احتساب کے نظام میں جکڑنا شفافیت کی عکاسی نہیں کرتا۔ پاکستان کے بیش تر بڑے بڑے کاروباری حضرات فوجی سربراہوں سے ملاقات میں برملا یہ کہتے ہیں کہ انہیں اس ملک میں ایف بی آر کا نظام قبول نہیں ہے کیونکہ اس نظام کی موجودگی میں کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ ان کے بقول اگر ایف بی آر کا موجودہ نظام برقرار رہا تو نہ صرف کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا بلکہ اس ملک میں کاروبار کرنا بھی ایک عذاب بن جائے گا۔ ہمارے حکمراں طبقات ہمیشہ سے ایف بی آر میں اصلاحات کی بات کرتے ہیں مگر عملاً کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جس سے یہ ادارہ ایک بے لگام ادارے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ جب ملک میں حکمرانی کا نظام خود شفافیت کے اصول پر پورا نہیں اُترتا اور ہمارے حکمران طبقات خود کرپشن کی سیاست کرتے ہیں تو پھر باقی اداروں کی کرپشن کیسے ختم ہوگی۔ دنیا بھر میں گورننس کے نظام میں شفافیت پیدا کرنے کے لیے اصلاحات پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے مگر ہم ان اصلاحات کے نام پر مصنوعی انداز میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ ہم شفاف نظام کے حامی ہیں۔ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ہم خود بھی شفافیت کے نظام پر یقین نہیں رکھتے اور ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جو ہماری ذاتی ترقی اور خوشحالی کا سبب بن سکے۔ کرپشن کا خاتمہ ایک منظم سیاسی تحریک اور سیاسی جدوجہد کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کرپشن اور بدعنوانی کو کرپشن اور بدعنوانی کی کرنے کے لیے تیار نہیں کرپشن کا خاتمہ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں پاکستان کی ممکن نہیں چاہتے ہیں کی سیاست کرپشن کو کرتے ہیں کی بنیاد تسلیم کر یہ ہے کہ کا نظام ملک میں نہیں ہے کے نظام نہیں ہو گیا ہے ہیں تو چکا ہے ہے اور اور اس رہا ہے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف