ای سی او: دہشتگردی ترقی میں رکاوٹ، علاقائی رابطوں کے فروغ کے بغیر ترقی ممکن نہیں، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ علاقائی رابطوں کو فروغ دیے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ دہشتگردی ہے جس کا مل کر مقابلہ ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان 30ویں ای سی او وزرائے خارجہ کونسل کی میزبانی کے لیے تیار
اسحاق ڈار نے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کی وزرائے خارجہ کونسل کے 29ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خطے میں علاقائی رابطوں، پائیدار ترقی اور مشترکہ اقتصادی مواقع کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اپنے خطاب میں وزیر خارجہ نے قازقستان کے وزیر خارجہ یرمیک کوشربائیف کو منصب سنبھالنے اور اجلاس کی میزبانی پر مبارکباد دی جبکہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور ای سی او کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر اسد مجید خان کی کاوشوں کو بھی سراہا۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بدلتی ہوئی عالمی اور علاقائی صورتحال میں مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے اور اقتصادی ناہمواری کو کم کرنے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ای سی او خطہ جغرافیائی وسعت اور قدرتی وسائل کی بدولت تجارت اور اقتصادی نظام کے انضمام کے لیے بے پناہ اہمیت رکھتا ہے۔
مزید پڑھیے: پاک فوج نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا، وزیراعظم کا ای سی او اجلاس سے خطاب
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان بطور بانی رکن، ای سی او کو علاقائی تعاون اور کثیرالجہتی روابط کے فروغ کے لیے ایک مؤثر فورم سمجھتا ہے۔
انہوں نے ای سی او وژن 2025 کے تحت علاقائی رابطوں کے لیے ٹرانسپورٹ کوریڈورز کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔
’اسلام آباد تہران استنبول ریلوے کوریڈور کے لیے کوشاں ہیں‘
اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان میں کثیرالمحوری ٹرانسپورٹ کوریڈورز کو ترقیاتی حکمت عملی کا بنیادی ستون بنایا گیا ہے جس میں سڑک، ریل، بحری، فضائی اور دیگر رابطوں کا جال شامل ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کے نائب وزیر سیاسی امور کی اسحاق ڈار سے ملاقات، سیاسی مشاورتی اجلاس کی تیاری پر گفتگو
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران اور ترکی کے ساتھ اسلام آباد تہران استنبول ریلوے کوریڈور کو جلد فعال کرنے کے لیے سرگرم ہے جبکہ ازبکستان-افغانستان-پاکستان ریلوے رابطے کے قیام کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ اکتوبر 2025 میں اسلام آباد میں منعقدہ ریجنل ٹرانسپورٹ منسٹرز کانفرنس نے علاقائی رابطوں کے لیے اہم حکمت عملیوں کی تشکیل میں کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ 14 اگست 2024 سے پاکستان نے کاروبار اور سیاحت کے لیے 126 ممالک کے لیے ویزا پالیسی میں نرمی کی ہے جس سے خطے کے کاروباری افراد اور سیاحوں کو پاکستان آنے میں سہولت ملی ہے۔
4 اہم شعبوں کے لیے تعاون کی نشاندہیوزیر خارجہ نے ای سی او ممالک کے لیے تعاون کے 4 اہم شعبوں کی نشاندہی کی جن میں ٹرانزٹ ٹرانسپورٹ فریم ورک ایگریمنٹ پر مکمل عملدرآمد، مربوط ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کی ترقی، کسٹمز اور بارڈر پروسیجرز کی ہم آہنگی اور پائیدار اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ سسٹمز کو فروغ دینا شامل ہیں۔
پاکستان کی ڈیجیٹل کنیکٹیویٹیانہوں نے بتایا کہ پاکستان ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کے لیے نئے سمندر کے نیچے کیبل سسٹم کے ذریعے 13.
وزیر خارجہ نے کہا کہ علاقائی رابطوں کے خواب کی تعبیر کے لیے خطے میں امن و استحکام ضروری ہے۔
دہشتگردی و موسمیاتی تبدیلی ترقی میں بڑی رکاوٹانہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردی علاقائی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلی بھی ایک بڑا چیلنج ہے جس کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کی سرمایہ کاری مارکیٹس کو جدید اور شفاف بنانے کے لیے سی ایم ڈی سی کا پہلا اجلاس
آخر میں انہوں نے لاہور کو سال 2027 کے لیے ای سی او ٹورزم کیپیٹل نامزد کرنے پر تمام رکن ممالک کا شکریہ ادا کیا اور اجلاس کے شرکا کو پاکستان آنے کی دعوت دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقتصادی تعاون تنظیم ای سی او نائب وزیراعظم اسحاق ڈار وزرائے خارجہ کونسل اجلاس وزیرخارجہ اسحاق ڈار
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقتصادی تعاون تنظیم ای سی او نائب وزیراعظم اسحاق ڈار وزرائے خارجہ کونسل اجلاس وزیرخارجہ اسحاق ڈار علاقائی رابطوں کے کہ پاکستان اسحاق ڈار نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ