پاکستان کی واشنگٹن میں افغان شہری کی فائرنگ کے واقعے کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
فائل فوٹو
پاکستان نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں افغان شہری کی فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ واقعہ دہشتگردی کا ٹارگیٹڈ حملہ ہے، ہلاک امریکی اہلکار کے اہلخانہ سے تعزیت اور زخمی اہلکار کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق مشتبہ شخص کی شناخت 29 برس کے افغان شہری رحمان اللّٰہ لکنوال سے کر لی گئی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان سے جڑے دہشتگرد حملوں کا سامنا کرتا آیا ہے۔ عالمی برادری دہشتگردی کے بڑھتے رجحان کا نوٹس لے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ دہشتگردی کے خلاف عالمی تعاون مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان امریکا اور عالمی برادری کیساتھ ملکر دہشتگردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے پُرعزم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: افغان شہری
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔