Islam Times:
2026-07-24@06:40:42 GMT

SDF کو شامی افواج میں ضم ہونا چاہئے، عبدالله اوجلان

اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT

SDF کو شامی افواج میں ضم ہونا چاہئے، عبدالله اوجلان

اپنے ایک بیان میں کُردستان ورکرز پارٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ میں، شام میں گزشتہ برس 10 مارچ کو جولانی رژیم اور کُرد فورسز کے درمیان ہونے والے معاہدے کی حمایت کرتا ہوں۔ اسلام ٹائمز۔ کُردستان ورکرز پارٹی (PKK) کے رہنماء "عبدالله اوجلان" نے کہا کہ میں، شام میں گزشتہ برس 10 مارچ کو جولانی رژیم اور کُرد فورسز کے درمیان ہونے والے معاہدے کی حمایت کرتا ہوں۔ اس معاہدے پر عمل ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ SDF کے نام سے معروف کُرد فورس کا شامی فوج میں ضم ہونا ایک اہم مسئلہ ہے، تاہم کُردوں کے زیر انتظام علاقوں کی سیکورٹی سنبھالنے والے "آسایش" نامی ادارے کو اپنا کام جاری رکھنا چاہئے۔ یاد رہے کہ سیرین ڈیموکریٹک فورس یعنی SDF کے سربراہ، کمانڈر مظلوم عبدی اور شام پر قابض باغیوں کے سربراہ "احمد الشرع" المعروف ابو محمد الجولانی نے گزشتہ برس 10 مارچ کو ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ جس کی رو سے خود ساختہ کُرد حکومت کے سول اور فوجی اداروں کو سال کے آخر تک قومی اداروں میں ضم ہونا تھا۔ لیکن دونوں فریقوں کے درمیان شدید اختلافات کے باعث یہ معاہدہ اب تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ کُردستان ورکرز پارٹی، ترکیہ میں عسکری کارروائیاں کرتی تھی۔ اس گروہ نے حال ہی میں ہتھیار ڈالے ہیں۔ اس لئے تُرک حکومت کے ساتھ اس گروہ کے حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ درنتیجہ اس گروہ کے سربراہ عبدالله اوجلان کا مذکورہ بیان، شام میں ترکیہ کے نفوذ کو ظاہر کرتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے سربراہ

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل