دہلی دھماکاکیس:مسلمانوں پرزمین تنگ،پیش امام گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
فرید آباد :مودی حکومت کی مسلم دشمنی کے تسلسل میں بھارتی سیکورٹی فورسز نے دہلی دھماکے کی آڑ میں مسلمانوں کا جینا حرام کردیا ہے،تازہ واقعے میں ایک پیش امام و دیگر کو گرفتار کرلیا۔
ہریانہ پولیس نے دہلی لال قلعہ دھماکے کی جاری تحقیقات کے حصے کے طور پر تلاشی مہم تیز کردی ہے۔ کرائم برانچ اور مقامی پولیس کی ایک مشترکہ ٹیم نے ہفتہ کو دھوج گائوں میں مساجد، دکانوں، ہوٹلوں، گھروں اور گوداموں کا معائنہ کیا، جس سے مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
پولیس نے بتایا کہ کئی گائوں والوں کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا، جن میں سروہی مسجد کے امام، امام الدین بھی شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق امام سے پہلے بھی دو بار پوچھ گچھ کی جا چکی ہے، کیونکہ دو مشتبہ دہشت گرد ڈاکٹر عمر اور ڈاکٹر مزمل اکثر مسجد میں آتے جاتے تھے۔
حکام نے بتایا کہ تازہ ترین کارروائی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے پہلے اسی گائوں میں تلاشی لینے کے بعد کی ہے اور ایک گھر سے یوریا پیسنے والی مل اور امونیم نائٹریٹ کو صاف کرنے اور الگ کرنے کے لیے استعمال ہونے والی ایک الیکٹرانک مشین برآمد کی ہے۔
پولس نے کہا کہ پلہ، سرائے خواجہ، بلبھ گڑھ اور سورج کنڈ علاقوں تک چھاپوں کا دائرہ وسیع کرنے کے بعد مزید نوجوانوں کو دہلی دھماکا کیس سے متعلق پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔
ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ دہلی دھماکوں کا تعلق ہریانہ کے فرید آباد میں الفلاح یونیورسٹی سے تھا، جس کے بعد حکام نے اس کیس کے سلسلے میں ڈاکٹر مزمل، ڈاکٹر شاہین، لیب ٹیکنیشن باسط اور وارڈ بوائے شعیب کو گرفتار کیا تھا۔
قبل ازیں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے الفلاح ٹرسٹ کے چیئرمین جاوید احمد صدیقی کو گرفتار کیا تھا اور عدالت نے انہیں 13 دن کے لیے ای ڈی کی تحویل میں دے دیا تھا۔ انہیں 18 نومبر کو حراست میں لیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کے لیے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک