سابق صدر عارف علوی کے بیٹے کے نام پی این آئی ایل میں شامل کرنے پر وفاقی حکومت کو نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے سابق صدر پاکستان عارف علوی کے بیٹے اواب علوی اور آفتاب جہانگیر کے نام پی این آئی ایل میں دوبارہ شامل کرنے کے خلاف درخواست پر وفاقی حکومت اور دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
درخواست گزاروں نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ عدالت نے پہلے ہی ان دونوں کے نام پی این آئی ایل سے خارج کرنے کا حکم دیا تھا، جس پر عمل بھی ہوا، لیکن عدالتی حکم پر نام نکالنے کے صرف دو گھنٹے بعد دوبارہ انہیں اسی فہرست میں شامل کر دیا گیا۔ درخواست گزاروں کے مطابق یہ اقدام عدالتی حکم کی صریح خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد وفاقی حکومت سمیت تمام متعلقہ فریقین کو 10 دسمبر تک تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیا اور آئینی بینچ نے ہدایت کی کہ اگلی سماعت میں وضاحت پیش کی جائے کہ عدالتی حکم کے باوجود درخواست گزاروں کے نام دوبارہ فہرست میں کیوں شامل کیے گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے نام
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔