ای چالان: نوٹیفکیشن کیلیے قانونی تقاضے پورے نہ ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)شہر قائد میں ای چالان کے اجرا کیلیے جاری نوٹیفکیشن کیلیے قانونی تقاضے پورے نہ کیے جانے کا انکشاف سامنے آگیا۔سندھ ہائیکورٹ میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ای چالان کے اجرا اور موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترمیم کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔عدالت نے درخواست کو اسی نوعیت کی دیگر درخواستوں کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کیا اور ان سے جواب طلب کر لیا۔دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے انکشاف کیا کہ ای چالان کے اجرا کیلیے جاری نوٹیفکیشن کیلیے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے، ابھی تک 2023 کا نوٹیفکیشن ہی قابل عمل ہے۔درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ شہر میں سڑکوں کا انفرااسٹرکچر تباہ حال اور ٹریفک سگنلز بھی مکمل فعال نہیں ہیں، اب تک 93 ہزار سے زائد ای چالان جاری کیے جا چکے ہیں، سندھ پرنٹنگ پریس کے مطابق جرمانے کا نوٹیفکیشن ابھی تک گزٹ میں شائع نہیں ہوا۔وکیل کے مطابق نوٹیفکیشن گزٹ میں شائع نہ ہونے سے 2023 کے منظور شدہ جرمانے ہی نافذ ہوں گے، ای چالان کے ذریعے کیے جانے والے بھاری جرمانے غیر قانونی ہیں۔سندھ ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 11 دسمبر تک ملتوی کر دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چالان کے
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔