Islam Times:
2026-06-03@05:20:17 GMT

کراچی کا ٹریفک کا نظام 20 فیصد بھی درست نہیں ہوا، ضیاء لنجار

اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT

کراچی کا ٹریفک کا نظام 20 فیصد بھی درست نہیں ہوا، ضیاء لنجار

سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیرِ قانون سندھ نے کہا کہ کسی نے کہا کہ ہم جرمانے ادا نہیں کریں گے، کسی کی ذات کو دیکھ کر قوانین نہیں بنائے جاتے، یہ ٹریفک وارڈن کے بارے میں جو علی خورشیدی نے کہا وہ نامناسب ہے، سب ایک جیسے نہیں ہوتے، ان کے جو تحفظات ہیں ہم اِن کے ساتھ بیٹھ کر حل کرنے کو تیار ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیرِ قانون سندھ ضیاء لنجار نے کہا ہے کہ کراچی کا ٹریفک کا نظام 20 فیصد بھی درست نہیں ہوا، اس کی بہتری کے لیے ہمیں اپوزیشن اور عوام کا تعاون چاہیئے۔ سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے ضیاء لنجار نے کہا کہ کراچی میں جرمانے شہریوں کے تحفظ کےلیے لگائے گئے ہیں، موٹرسائیکل پر 4، 4 بچے لے جا رہے ہیں، ہیڈ لائٹ نہیں ہے، کراچی کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی چالان کر رہے ہیں۔ ضیاء لنجار کا کہنا تھا کہ چالان کی رقم بڑی ضرور ہے مگر وصولی نہیں ہے، ہم نے پہلے چالان کی رقم معاف کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی نے کہا کہ ہم جرمانے ادا نہیں کریں گے، کسی کی ذات کو دیکھ کر قوانین نہیں بنائے جاتے، یہ ٹریفک وارڈن کے بارے میں جو علی خورشیدی نے کہا وہ نامناسب ہے، سب ایک جیسے نہیں ہوتے، ان کے جو تحفظات ہیں ہم اِن کے ساتھ بیٹھ کر حل کرنے کو تیار ہیں۔ وزیر قانون سندھ کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بھی جرمانوں کی رقم میں اضافہ کیا گیا تھا، قانون کی رِٹ قائم کرنے اور ٹریفک کا نظام بہتر کرنے کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ضیاء لنجار نے کہا کہ

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی