افغان طالبان کی پالیسیاں درست نہیں، دہشتگرد نیٹ ورکس سے روابط کا خاتمہ ضروری قرار
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں افغانستان کی جمہوری اپوزیشن کا اجلاس منعقد ہوا جہاں انڈیپنڈنٹ ڈپلومیٹ اور یورپین فاؤنڈیشن فار ڈیموکریسی نے ملک کے سیاسی مستقبل پر مشاورت کے لیے رہنماؤں کو اکٹھا کیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا مسئلہ افغان عوام سے نہیں، افغان طالبان رجیم سے ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
اجلاس میں کہا گیا کہ طالبان حکومت خطے اور یورپ کے لیے بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کا باعث بن رہی ہے۔ طویل المدتی استحکام کے لیے جامع سیاسی حل اور افغان فریقوں کے درمیان قابل اعتماد مذاکرات ناگزیر ہیں۔
شرکا کے مطابق طالبان کو دہشتگرد نیٹ ورکس سے روابط ختم کرنا ہوں گے اور غیر ملکی قیدیوں کو رہا کرنا ضروری ہے۔
اجلاس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ خواتین کے حقوق کا تحفظ اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی انتہائی اہم نکات ہیں۔ طالبان کی جابرانہ پالیسیاں، اقلیتوں کو نظر انداز کرنا اور معاشی بدانتظامی بڑے پیمانے پر ہجرت اور بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔
مزید کہا گیا کہ دوحہ معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں اور اصلاحات سے انکار نے طالبان حکومت کو عالمی برادری سے تنہا کردیا ہے۔
مزید پڑھیں: یورپی یونین نے پاکستانی مؤقف کی حمایت کردی، افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج کا مکروہ چہرہ بےنقاب
واضح رہے کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد ملک میں طالبان کی عبوری حکومت قائم ہے، جو تاحال حالات کو درست سمت پر ڈھالنے میں ناکام نظر آ رہی ہے، اور افغان طالبان کی پالیسیوں سے دہشتگرد گروپ مضبوط ہو رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
WENEW wenews اپوزیشن افغان طالبان برسلز اجلاس دہشتگردی عبوری حکومت وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپوزیشن افغان طالبان برسلز اجلاس دہشتگردی عبوری حکومت وی نیوز افغان طالبان طالبان کی کے لیے
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،