گوگل نے اپنا نیا مصنوعی ذہانت پر مبنی امیج جنریشن ماڈل متعارف کرا دیا جو حقیقت سے اس قدر مشابہ تصاویر بناتا ہے کہ ماہرین اور صارفین دونوں ہی اس کے نتائج کو تشویشناک قرار دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی کا نیا انقلابی فیچر کیا ہے؟

مذکورہ ماڈل ’نینو بنانا پرو‘ (جیمنائی 3 پرو امیج) گروک، جی پی ٹی امیج اور گوگل کے اپنے گزشتہ ورژن نینو بنانا کے بعد گوگل کا تازہ ترین قدم ہے جس کی کارکردگی اسٹیٹ آف دی آرٹ امیج جنریشن اور ایڈیٹنگ ماڈل کے طور پر بیان کی جا رہی ہے۔

گوگل کے مطابق یہ ماڈل بصری ڈیزائن، عالمی معلومات اور درست ٹیکسٹ رینڈرنگ میں غیر معمولی مہارت رکھتا ہے۔

ماہرین کو جعل سازی کا خدشہ کیوں؟

ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ماڈل تخلیقی شعبوں اور کاروباری دنیا کے لیے نئی راہیں کھولتا ہے لیکن اس کی انتہائی حقیقت نما تصاویر غلط معلومات، پروپیگنڈا اور جعلسازی کے ایک نئے دور کی نشاندہی بھی کرتی ہیں۔

یہ سوال اب پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آیا ہے کہ ہم اصل اور جعلی میں فرق کیسے کریں؟

مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا خطرہ

اوپن اے آئی کے امیج جنریٹرز سے لے کر دوسری اے آئی ایپس تک دنیا پہلے ہی جعلی تصاویر، جھوٹی ویڈیوز اور بدنیتی پر مبنی مہمات سے متاثر ہے۔

مزید پڑھیے: گوگل جیمنی پہلی بار چیٹ جی پی ٹی کو پیچھے چھوڑنے میں کامیاب، یہ کام کیسے ہوا؟

گزشتہ برس جی پی ٹی فور زیرو کے امیج جنریٹر کے جاری ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر اسٹوڈیو گھبلی طرز کی اینیمیشنز کی بھرمار دیکھنے کو ملی جس نے کاپی رائٹ اور اخلاقی اصولوں کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی۔

مصنوعی ذہانت کے تصویری ماڈلز آرٹ کے علاوہ عام افراد کے لیے بھی خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ جعلی نیوڈز سے لے کر غلط دعووں تک ان ٹولز کا غلط استعمال کسی کی بھی ساکھ کو لمحوں میں نقصان پہنچا سکتا ہے۔

مزید پڑھیے: ایکس گروک چیٹ بوٹ اب مفت دستیاب ہوگا، یومیہ کتنا استعمال کیا جاسکتا ہے؟

پاکستان میں بھی اس کا نقصان دیکھا گیا جب 8 نومبر کو ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’ پاک ووکلز‘ نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ معروف صحافی بینظیر شاہ نائٹ کلب میں ڈانس کر رہی ہیں۔ 2 ہفتوں میں اس ویڈیو کو 5 لاکھ سے زائد ویوز ملے مگر بعد میں یہ ویڈیو مکمل طور پر جعلی ثابت ہوئی۔

اے آئی تصاویر کیسے بناتا ہے؟

اے آئی لاکھوں تصاویر اور ان سے منسلک کیپشنز سے سیکھتا ہے۔ ’ڈفیوژن‘ کے عمل کے ذریعے یہ پہلے تصویر کو بے معنی پکسلز میں تبدیل کرتا ہے پھر اسی عمل کو الٹ کر کے تصویر کو دوبارہ تشکیل دیتا ہے۔

اہم مسئلہ یہ ہے کہ اے آئی کاپی رائٹ کو مدنظر نہیں رکھتا جس کے باعث فنکاروں کے انداز بغیر اجازت استعمال ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: فیگما اور گوگل میں شراکت، جیمنی اے آئی اب ڈیزائن پلیٹ فارم کا حصہ

مد جرنی، ڈیلی اور کینوا جیسے ٹولز نے اس ٹیکنالوجی کو عام کردیا ہے بس ایک پرامپٹ لکھیں اور تصویر تیار۔

فلم انڈسٹری کے خدشات

22ویں مراکش انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں جیوری ممبر اور ہالی وڈ اداکارہ جینا اورٹیگا نے خبردار کیا کہ فلم سازی میں اے آئی کی بڑھتی موجودگی خوفناک غیر یقینی صورتحال کو جنم دے رہی ہے۔

ان کے مطابق یہ ایسا لگتا ہے جیسے ہم نے پینڈورا باکس کھول دیا ہے۔ مشکلات میں بھی ایک طرح کی خوبصورتی ہوتی ہے غلطیوں میں بھی ایک روح ہوتی ہے اور کمپیوٹر کے پاس یہ روح نہیں ہوتی۔

مزید پڑھیں: اے آئی کا بہتر استعمال کر کے آمدن میں اضافہ ممکن، گوگل معاونت کے لیے تیار

انہوں نے کہا کہ ممکن ہے جلد ہی اے آئی انسانوں کے لیے ذہنی جنک فوڈ بن جائے ایسی چیز جسے لوگ استعمال تو کریں لیکن اس سے بےچینی محسوس کریں۔

اب کیا ہوگا؟

ایک ایسی دنیا میں جہاں بچوں کی اسکن کیئر لائنوں سے لے کر اے آئی سے تیار فلموں، ڈرائیور لیس گاڑیوں اور سائنسی فلموں جیسے ٹیکنالوجی کے تجربات عام ہو رہے ہیں اگلا قدم کیا ہوگا؟ یہ سوال اب پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امیج جنریشن ماڈل امیج ماڈل اے آئی جیمنائی 3 پرو امیج گوگل گوگل کا نیا امیج جنریشن ماڈل مصنوعی ذہانت نینو بنانا پرو.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امیج جنریشن ماڈل امیج ماڈل اے ا ئی گوگل گوگل کا نیا امیج جنریشن ماڈل مصنوعی ذہانت امیج جنریشن ماڈل مصنوعی ذہانت جی پی ٹی کے لیے اے آئی

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار