چیٹ جی پی ٹی، پرپلیکسٹی یا جیمینی: شاپنگ ریسرچرز کے لیے بہترین اے آئی پلیٹ فارم کون سا؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
آن لائن خریداری کی دنیا میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) شاپنگ اسسٹنٹس پہلے سے کہیں زیادہ عام ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں تین بڑے اے آئی ٹولز گوگل جیمینی، چیٹ جی پی ٹی اور پرپلیکسٹی کو ایک ہی کام کے لیے پرکھا گیا۔ جب ان تینیوں اے آئی ٹولز سے پوچھا گیا کہ 800 ڈالر سے کم قیمت والے معیاری لیپ ٹاپ تلاش کرو تو تینیوں پلیٹ فارمز کی جانب سے مختلف نتائج سامنے آئے۔
چیٹ جی پی ٹی کا شاپنگ ریسرچ موڈ ایک رہنمائی کرنے والے خریداری اسسٹنٹ کی طرح کام کرتا ہے۔ جب اے آئی ٹول سے 800 ڈالر سے کم قیمت والے لیپ ٹاپ پوچھے گئے تو اس نے فوراً چند سوالات پیش کیے جن میں اسکرین سائز، بیٹری لائف، کارکردگی، گیمنگ کی ضرورت، ٹچ اسکرین کی ترجیح اور پورٹیبلیٹی شامل تھیں۔
صارف کی ترجیحات اکٹھی کرنے کے بعد چیٹ جی پی ٹی نے چند منٹ میں تجاویز فراہم کیں۔ اِس نے کچھ گائیڈ پیش کیں جن میں مناسب ماڈلز، ان کے فائدے اور نقصانات، اسپیسفکیشن کا موازنہ، اور تخمینی قیمتیں شامل تھیں، ساتھ ہی ایک تقابلی چارٹ بھی تیار کیا۔
تاہم، تمام خریداری کے لنکس صرف ‘بیسٹ بائی’ کی طرف گئے، اور کچھ قیمتیں بالکل تازہ ترین نہیں تھیں۔ چیٹ جی پی ٹی نے اس ممکنہ فرق سے متعلق خود ہی آگاہ کیا، کیونکہ یہ متعدد ذرائع سے معلومات اکٹھی کرتا ہے۔
گوگل جیمینی کو گوگل کے وسیع ریٹیل ایکو سسٹم کا بڑا فائدہ حاصل ہے۔ جہاں چیٹ جی پی ٹی ذاتی ترجیحات پر زور دیتا ہے، وہیں یہ ٹول بڑے پیمانے پر ڈیٹا استعمال کرتا ہے، بالخصوص گوگل شاپنگ گراف سے، جس میں 50 ارب سے زائد پروڈکٹ لسٹنگز شامل ہیں۔
جیمینی نے کوئی اضافی سوالات نہیں پوچھے۔ اس نے براہ راست بجٹ کے اندر متعدد لیپ ٹاپ آپشنز پیش کیے، جن کے ساتھ مختلف اسٹورز کے لنکس اور ممکنہ طور پر قیمتوں کی تاریخ بھی موجود تھی۔
گوگل، جیمینی کے علاوہ بھی اے آئی شاپنگ فیچرز فراہم کرتا ہے۔ گوگل سرچ کے اے آئی موڈ میں ڈیلز، قیمت کے رجحانات، اور خریداری میں معاون ٹولز سامنے آتے ہیں۔ بعض صورتوں میں، جیمینی مقامی اسٹورز سے رابطہ کرکے اسٹاک یا پروموشن کی تصدیق بھی کر سکتا ہے۔
پرپلیکسٹی نے حال ہی میں اپنے شاپنگ ٹولز متعارف کرائے ہیں، جو اس کے معیاری اے سرچ تجربے پر مبنی ہیں۔ اس کے شاپنگ ٹیب میں قیمتوں، ریٹنگز، فائدے اور نقصانات، اور اپگریڈیبلٹی نوٹس کے ساتھ پروڈکٹ کارڈز کا سادہ اور خوبصورت گرڈ پیش ہوتا ہے۔
یہ ایک جدید آن لائن اسٹور کی طرح محسوس ہوتا ہے جس میں اے آئی کی اضافی معلومات شامل ہوتی ہیں۔ پرپلیکسٹی پارٹنر مرچنٹس کے ذریعے فوری خریداری کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔
تاہم، اس کی ایک بڑی تجویز 800 ڈالر کی حد سے باہر چلی گئی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی فلٹرنگ ہر وقت درست نہیں رہتی۔
تاہم تینوں اے آئی اسسٹنٹس نے اپنے اپنے انداز میں بہترین کارکردگی دکھائی۔چیٹ جی پی ٹی رہنمائی پر مبنی فیصلہ سازی میں نمایاں رہا۔جیمینی نے سب سے زیادہ ریٹیلرز کا احاطہ کیا اور مکمل قیمتوں کا ڈیٹا فراہم کیا۔
جبکہ پرپلیکسٹی نے اسٹور جیسا تیز اور مؤثر براؤزنگ تجربہ پیش کیا۔
خلاصہ یہ کہ فی الحال بہترین لیپ ٹاپ تجویز کرنے میں چیٹ جی پی ٹی نے برتری دکھائی، جبکہ جیمینی اور پرپلیکسٹی کی اپنی مضبوط خصوصیات موجود ہیں۔ لیکن آج بھی پرانی روایتی خود سے تحقیق اور خریداری کو مکمل طور پر کوئی چیز نہیں بدل پائی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی کرتا ہے لیپ ٹاپ اے ا ئی اے آئی
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔