آن لائن خریداری کی دنیا میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) شاپنگ اسسٹنٹس پہلے سے کہیں زیادہ عام ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں تین بڑے اے آئی ٹولز گوگل جیمینی، چیٹ جی پی ٹی اور پرپلیکسٹی کو ایک ہی کام کے لیے پرکھا گیا۔ جب ان تینیوں اے آئی ٹولز سے پوچھا گیا کہ 800 ڈالر سے کم قیمت والے معیاری لیپ ٹاپ تلاش کرو تو تینیوں پلیٹ فارمز کی جانب سے مختلف نتائج سامنے آئے۔

چیٹ جی پی ٹی کا شاپنگ ریسرچ موڈ ایک رہنمائی کرنے والے خریداری اسسٹنٹ کی طرح کام کرتا ہے۔ جب اے آئی ٹول سے 800 ڈالر سے کم قیمت والے لیپ ٹاپ پوچھے گئے تو اس نے فوراً چند سوالات پیش کیے جن میں اسکرین سائز، بیٹری لائف، کارکردگی، گیمنگ کی ضرورت، ٹچ اسکرین کی ترجیح اور پورٹیبلیٹی شامل تھیں۔

صارف کی ترجیحات اکٹھی کرنے کے بعد چیٹ جی پی ٹی نے چند منٹ میں تجاویز فراہم کیں۔ اِس نے کچھ گائیڈ پیش کیں جن میں مناسب ماڈلز، ان کے فائدے اور نقصانات، اسپیسفکیشن کا موازنہ، اور تخمینی قیمتیں شامل تھیں، ساتھ ہی ایک تقابلی چارٹ بھی تیار کیا۔

تاہم، تمام خریداری کے لنکس صرف ‘بیسٹ بائی’ کی طرف گئے، اور کچھ قیمتیں بالکل تازہ ترین نہیں تھیں۔ چیٹ جی پی ٹی نے اس ممکنہ فرق سے متعلق خود ہی آگاہ کیا، کیونکہ یہ متعدد ذرائع سے معلومات اکٹھی کرتا ہے۔

گوگل جیمینی کو گوگل کے وسیع ریٹیل ایکو سسٹم کا بڑا فائدہ حاصل ہے۔ جہاں چیٹ جی پی ٹی ذاتی ترجیحات پر زور دیتا ہے، وہیں یہ ٹول بڑے پیمانے پر ڈیٹا استعمال کرتا ہے، بالخصوص گوگل شاپنگ گراف سے، جس میں 50 ارب سے زائد پروڈکٹ لسٹنگز شامل ہیں۔

جیمینی نے کوئی اضافی سوالات نہیں پوچھے۔ اس نے براہ راست بجٹ کے اندر متعدد لیپ ٹاپ آپشنز پیش کیے، جن کے ساتھ مختلف اسٹورز کے لنکس اور ممکنہ طور پر قیمتوں کی تاریخ بھی موجود تھی۔

گوگل، جیمینی کے علاوہ بھی اے آئی شاپنگ فیچرز فراہم کرتا ہے۔ گوگل سرچ کے اے آئی موڈ میں ڈیلز، قیمت کے رجحانات، اور خریداری میں معاون ٹولز سامنے آتے ہیں۔ بعض صورتوں میں، جیمینی مقامی اسٹورز سے رابطہ کرکے اسٹاک یا پروموشن کی تصدیق بھی کر سکتا ہے۔

پرپلیکسٹی نے حال ہی میں اپنے شاپنگ ٹولز متعارف کرائے ہیں، جو اس کے معیاری اے سرچ تجربے پر مبنی ہیں۔ اس کے شاپنگ ٹیب میں قیمتوں، ریٹنگز، فائدے اور نقصانات، اور اپگریڈیبلٹی نوٹس کے ساتھ پروڈکٹ کارڈز کا سادہ اور خوبصورت گرڈ پیش ہوتا ہے۔

یہ ایک جدید آن لائن اسٹور کی طرح محسوس ہوتا ہے جس میں اے آئی کی اضافی معلومات شامل ہوتی ہیں۔ پرپلیکسٹی پارٹنر مرچنٹس کے ذریعے فوری خریداری کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔
تاہم، اس کی ایک بڑی تجویز 800 ڈالر کی حد سے باہر چلی گئی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی فلٹرنگ ہر وقت درست نہیں رہتی۔

تاہم تینوں اے آئی اسسٹنٹس نے اپنے اپنے انداز میں بہترین کارکردگی دکھائی۔چیٹ جی پی ٹی رہنمائی پر مبنی فیصلہ سازی میں نمایاں رہا۔جیمینی نے سب سے زیادہ ریٹیلرز کا احاطہ کیا اور مکمل قیمتوں کا ڈیٹا فراہم کیا۔

جبکہ پرپلیکسٹی نے اسٹور جیسا تیز اور مؤثر براؤزنگ تجربہ پیش کیا۔

خلاصہ یہ کہ فی الحال بہترین لیپ ٹاپ تجویز کرنے میں چیٹ جی پی ٹی نے برتری دکھائی، جبکہ جیمینی اور پرپلیکسٹی کی اپنی مضبوط خصوصیات موجود ہیں۔ لیکن آج بھی پرانی روایتی خود سے تحقیق اور خریداری کو مکمل طور پر کوئی چیز نہیں بدل پائی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی کرتا ہے لیپ ٹاپ اے ا ئی اے آئی

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار