Express News:
2026-07-24@14:47:08 GMT

مہارت اور وقار کی عالمی پہچان

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

حالیہ پاک بھارت جنگ میں افواج پاکستان نے دنیا کو اُس وقت ورطہ حیرت میں ڈال دیا جب انھوں نے اپنے سے دس گنا بڑی فوج کو نہ صرف شکست فاش سے دوچار کیا بلکہ فضائی محاذ پر بھارتی فضائیہ کو نشان عبرت بنا دیا، مودی کی نام نہاد عسکری طاقت اور معاشی ترقی کے غبارے سے ہوا بھی نکال کر رکھ دی۔

بھارتی فضاؤں میں چینی ساختہ لڑاکا طیاروں JF-17 اور JC-10 کو پاکستان کے فضائی جانبازوں نے اس مہارت سے استعمال کیا کہ دنیا دنگ رہ گئی۔ خاص طور پر جس طرح فرانسیسی طیارے رافیل کو تباہ کیا، اس تباہی نے نہ صرف رافیل تیار کرنیوالی کمپنی کو مشکلات سے دوچار کردیا بلکہ طیاروں کی کوالٹی اور اس کے مستقبل پر سوال کھڑے دیے۔

اس سے قبل دنیا کے لیے رافیل طیاروں کی تباہی کو ناممکن تصورکیا جا رہا تھا۔ اس جنگ میں پاک فوج نے نہ صرف سات بھارتی طیاروں کو تباہ کردیا بلکہ اس کی ملٹری بیسز کو بھی کامیابی کے ساتھ ٹارگٹ کر کے انھیں بھی تباہ کیا، اس کے علاوہ بری اور بحری محاذ پر بھی دشمن کو پاکستانی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا۔

پاکستان نے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر بھی بھارتی عزائم کو ناکام بنایا۔ بھارت کے خلاف پاک فوج کی کامیابی نے اسے دنیا کی بہترین فوج میں شامل کردیا ہے، اب پوری دنیا اچھی طرح جان چکی ہے کہ افواج پاکستان ملک کی سرحدوں کی محافظ اور قوم کا فخر ہے کیونکہ جس طرح پاک فوج فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں آگے بڑھ رہی ہے امریکا اور پوری دنیا ان کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ پا رہی، جو ہماری بہترین عسکری قیادت کی دانشمندانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

ملک دشمن قوتیں سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف نام نہاد پروپیگنڈا کررہی ہیں، ہماری نوجوان نسل کے کچے ذہنوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی معاشی و سیاسی تباہی و بربادی صرف اور صرف سیاستدانوں کی ناکامیوں کا نتیجہ ہے، افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ ایک تو ہمارے سیاستدانوں کے پاس کوئی معاشی و سیاسی وژن نہیں ہوتا اور وہ اعلیٰ سے اعلیٰ عہدوں کے لیے خواہشمند بن بیٹھتے ہیں، حالانکہ خوش قسمتی سے ہماری سیاسی قیادت کے سامنے چین کی معاشی و عسکری ترقی جیسا رول ماڈل موجود ہے لیکن ہم اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہے یا پھر دینا ہی نہیں چاہتے۔

پاکستان کے عوام کی اکثریت سیاستدانوں کے طرز سیاست و طرز حکمرانی سے نالاں نظر آتے ہیں، کیونکہ حکمرانوں نے ہمیشہ سے ہی تعلیم جیسے اہم ترین شعبے کو بری طرح نظر انداز کیا ہے، صحت کا شعبہ مشکلات کا شکار رہا ہے، ملک کے سرکاری اداروں کی حالت زار دیکھ کر افسوس ہوتا ہے، جو کبھی منافع بخش ادارے ہوا کرتے ہیں۔

آج خسارے میں جانے کے بعد ہم ان کی نجکاری کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں، آخر یہ سب کچھ ایک دن میں تو نہیں ہوا اور نہ کوئی حکومت ان حالات سے ناواقف رہی ہوگی، لازم سی بات ہے ہر حکومت اداروں کی ناقص کارکردگی مکمل آگاہی رہی ہوگی تو انھوں نے اس سلسلے میں کوئی قدم کیوں نہیں اٹھایا اور کیوں انھیں تباہی سے بچانے کی کوشش نہیں کی، اگر ہے تو پھر ہم نے ان کا حل کیا نکالا ہے؟

دوسرا یہ بے روزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے عوام میں انتشار پھیل رہا ہے، بجلی، گیس اور پانی جیسی بنیادی ضروریات کا بحران حالات میں بتدریج بگاڑ پیدا کر رہا ہے جو ملک و ملت کے لیے نقصان کا باعث بن رہے ہیں، عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا اور ان کی جان و مال کا تحفظ کرنا ہر حکومت کی اولین ذمے داری ہوتی ہے۔

لیکن جب حکمران اپنی اس بنیادی ذمے داری سے راہ فرار اختیار کرتے ہیں تو اس سے عوام میں نفرت پیدا ہوتی ہے اور پھر یہی وہ بنیادی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ملک میں انتشار پھیلتا ہے اور پھر اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دشمن قوتیں ان کی ہمدرد بن کر انھیں ملک اور ملکی اداروں کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

یہ بات حقیقت ہے کہ ہماری فوج کے بہادر جوانوں نے ہر موقع پر ثابت کیا ہے کہ وطن عزیز پر چاہے جیسا بھی وقت کیوں نہ آجائے جب تک ہمارے نوجوانوں میں سبز ہلالی پرچم کی سربلندی کا جذبہ موجود ہے تو بڑے سے بڑے چیلنجز کا مقابلہ بآسانی کیا جاسکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ماہ ایک بار پھر دنیا بھر میں پاکستان کا نام فخر سے بلند کرتے ہوئے پاک فوج کی ٹیم نے برطانیہ کے شہر ویلز میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی مشہور ایکسر سائز کیمبرین پٹرول 2025 میں گولڈ میڈل جیتا۔ اس مشق میں 36 ممالک کی 137 ٹیموں نے حصہ لیا اور ان تمام ٹیموں میں سے کیپٹن محمد سعد کی قیادت میں پاک فوج کی ٹیم نے مشق میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

بلاشبہ پاک فوج کی ٹیم نے کیمرین پٹرول ایکسر سائز میں اپنی جرات، نظم و ضبط اور غیر معمولی مہارت کے ساتھ گولڈ میڈل جیت کر عالمی سطح پر ایک اور سنہری کارنامہ رقم کیا ہے، یہ مشق دنیا کی مشکل ترین فوجی مقابلوں میں شمارکی جاتی ہے، جہاں مختلف ممالک کی افواج اپنی جسمانی برداشت، حکمتِ عملی، ٹیم ورک اور جنگی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کرتی ہیں۔

پوری دنیا سے مشق کے شرکاء کو ناہموار علاقے میں حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے محدود گھنٹوں میں زیادہ سے زیادہ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے اپنے اہداف کو حاصل کرنا ہوتا ہے۔

لہٰذا ایسے کڑے میدان میں پاکستانی جوانوں کی شاندار کارکردگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاک فوج نہ صرف خطے کی بلکہ دنیا کی بہترین اور پروفیشنل افواج میں سے ایک ہے اور یہ لمحہ پوری پاکستانی قوم اور پاک فوج کے لیے قابل فخر ہے جو اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور تربیت کے اعلیٰ ترین معیار کے لیے جانی جاتی ہے۔

پاک فوج نے ہر محاذ پر دشمنوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا ہے۔ سیاچن جیسے مقام پر جہاں خون جما دینے والی سردی میں بھی اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا واقعی بہت بڑی بات ہے۔ اس کے علاوہ کراچی و اندرون، پنجاب، بلوچستان اور کے پی کے تک ملک و ملت کے لیے قربانیاں دینے والے پاک فوج کے یہ گمنام ہیروز بھی ہمارا فخر ہیں، پاک فوج کے تازہ دم جوان دستے سرحدوں کی حفاظت کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

جب سے افواج پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑی فوجی طاقت کو شکست دی ہے، پاکستانی فوج کا شمار دنیا کی مضبوط ترین افواج میں شامل ہوچکا ہے۔ہماری پوری سیاسی قیادت کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاسی استحکام کے لیے ملکر کام کرنا چاہیے، ملک کو شر انگیزی سے پاک کرنے کے لیے جرات فیصلے کرنا ہونگے۔

اس کے علاوہ 9 مئی جیسے دلخراش واقعات کو ہر حال میں روکنا ہوگا، اس قسم کے واقعات ہمارے شہداء کے ورثوں اور پوری قوم کی دل آزاری کا باعث بنتے ہیں، ایسے واقعات قابل مذمت ہیں اور ان کا سدباب انتہائی ضروری ہے، افواج پاکستان سرحدوں کی حفاظت کر تے ہوئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کررہی ہے، وہ سرحدوں پر اور بیرونی دشمنوں سے نبرد آزما ہے ایسے موقع پر قومی یکجہتی بہت زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔

مجھے یقین ہے کہ جس طرح افواج پاکستان ملک و ملت کی سلامتی و حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہی ہے، اس کی بدولت بہت جلد اللہ تعالیٰ ہمیں دہشتگرد عناصر اور ملک و اسلام دشمن قوتوں کے خلاف بھی شاندار فتح اور کامیابیاں عطا فرمائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: افواج پاکستان پاک فوج کے پاک فوج کی سرحدوں کی دنیا کی میں پاک کے خلاف رہی ہے کیا ہے کے لیے

پڑھیں:

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار

اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33  ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط  بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے  کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎

متعلقہ مضامین

  • قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے
  • کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی